محمد جاوید قصوری 69

ملک پر قرضے اور واجبات ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں’ جاوید قصوری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک اِس وقت گھمبیر مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، ساتویں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی اور لاقانونیت کے باعث عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ملک پر قرضے اور واجبات ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے، جی ڈی پی کے 82اعشاریہ ایک فیصد کے برابر ہوگئے۔ گزشتہ مالی سال 25ـ2024 کے دوران قرضوں اور واجبات میں 8 ہزار 740 ارب روپے کااضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ہر پاکستانی تین لاکھ سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام کو کسی قسم کا ریلیف میسر نہیں ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے جبکہ دوسری طرف رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کر دی ہے۔

42 لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے حکومتی دعووں کے باوجود زمینی حقائق حقیقت میں اس کے بالکل بر عکس ہیں۔حکومت کی ناقص معاشی اور انتظامی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی،بے روزگاری اور غربت کا گراف اوپر کی طرف جارہا ہے۔ملک کے تقریبا ہر سرکاری ادارے کی کارکردگی سے عوام نالاں ہیں۔حکومت کی اپنی یہ رپورٹ ہے کہ 15سے زائد سرکاری ادارے 59کھرب روپے خسارے میں ہیں جبکہ بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں نے ہماری معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف اہم سرکاری اداروں پر رائیٹ سائزنگ کا بے رحم کلہاڑا چلا کر لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنا چاہتی ہے۔تعلیم یافتہ لاکھوں نو جوان بے روز گاری سے تنگ آکر ملک چھوڑ چکے ہیں۔

اس وقت ہمارا زرعی صنعتی اور تجارتی شعبہ بحران کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کفایت شعاری و سادگی کا درس دینے والے حکمران اپنے گریبانوں میں بھی جھانکیں کہ ان کے حکومتی وزراء ااور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے سیلاب کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ سینکڑوں دیہات سیلابی ریلوں کی زد میں ہیں جہاں کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور لوگوں کے گھریلو سامان اور جمع پونجی کے علاوہ مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ پنجاب میں مکانوں کی چھتیں، دیواریں گرنے اور سیلاب کے پانی میں ڈوبنے سے اب تک 50سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکہ بیسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں