مراد علی شاہ 9

معدنی وسائل سے بھرپور استفادے کے لیے تھر ماڈل پورے ملک میں اپنانا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر کول منصوبے کی کامیابی مقامی آبادی، سرمایہ کاروں اور حکومت کے باہمی اشتراک، اعتماد اور مسلسل تعاون کا نتیجہ ہے، جبکہ پاکستان کے معدنی وسائل ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھر کا کامیاب ماڈل ملک کے دیگر معدنی منصوبوں میں بھی اپنایا جانا چاہیے تاکہ گرینائٹ، ماربل، راک سالٹ، چونا پتھر اور دیگر معدنی ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔وہ کراچی میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کان کنی کے بڑے منصوبے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔

تھر میں سندھ حکومت، وفاقی حکومت، نجی سرمایہ کاروں، چینی کمپنیوں اور مقامی کمیونٹی نے مل کر ایک ایسا کامیاب ماڈل قائم کیا ہے جسے پورے ملک میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اور تمام شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج سے پاکستان کے معدنی شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور دلچسپی بڑھے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس کے بیشتر ذخائر اب بھی غیر ترقی یافتہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فیز تھری توسیعی منصوبے کے تحت رواں سال ایک کروڑ 12 لاکھ ٹن کوئلہ پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کے توانائی کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر 1992 میں دریافت ہوئے، تاہم 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس منصوبے کو نئی سمت دی اور تھر کول اینڈ انرجی بورڈ قائم کیا گیا۔ گزشتہ 16 برسوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے منصوبہ مسلسل آگے بڑھا، 2015ـ16 میں پہلی بار تھر سے کوئلہ نکالا گیا، 2018 میں باقاعدہ کان کنی اور 2019 میں بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کی صلاحیت بے پناہ ہے اور اب تک اس کا صرف آغاز ہوا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو طویل المدتی حکمت عملی کے تحت مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ مختصر المدتی مفادات کے بجائے پائیدار منصوبہ بندی ہی کان کنی کے شعبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی متعدد بار نئے صوبے کے قیام کی متفقہ مخالفت کر چکی ہے اور فی الحال سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع یا سنسنی خیز نہ بنایا جائے، کیونکہ نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ آئین میں واضح ہے اور کسی بھی صوبے کی تقسیم صرف آئینی طریقہ کار اور متعلقہ اسمبلی کی منظوری سے ہی ممکن ہے۔

احتجاج کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم ایسا احتجاج ہونا چاہیے جس سے عوام کو تکلیف نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی ٹریفک بند کرنا اور شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا مناسب طریقہ نہیں، احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینا، قانون کی پابندی کرنا اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ضروری ہے۔گندم کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے ایک ملین ٹن گندم کی خریداری کے لیے پیشگی انتظامات کیے تھے، جبکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے دوران ڈھائی سے تین لاکھ ٹن گندم برآمد کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مقامی آبادگاروں کے مفادات کے تحفظ اور صارفین کو مناسب نرخوں پر آٹا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور ہاریوں کے تحفظ اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبہ پاکستان کا کامیاب ترین مائننگ ماڈل بن چکا ہے اور جو لوگ اس کی ترقی سے واقف نہیں، انہیں تھرپارکر جا کر وہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا خود مشاہدہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بڑے منصوبے میں مشکلات آتی ہیں، مگر عزم، شراکت داری اور باہمی اعتماد سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ تھر کی کامیابی پاکستان میں معدنی شعبے کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں