ہائیکورٹ 4

لاہور ہائیکورٹ نے عثمان فاروق کی نظر بندی کالعدم قرار دے دی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما عثمان فاروق کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس فاروق حیدر نے محمد فاروق کی جانب سے اپنے بیٹے عثمان فاروق کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل ملک احد اعوان پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری محمد نواز، مدثر نوید چٹھہ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ عرفان خان لودھی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالتی حکم کے باوجود ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان عدالت میں پیش نہ ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے لاء افسران بھی عدالت کو نظر بندی کے جواز پر مطمئن نہ کرسکے۔درخواست گزار کے وکیل ملک احد اعوان نے موقف اختیار کیا کہ عثمان فاروق تقریباً ایک سال جیل میں رہے، جیل سے باہر آنے کے بعد انہیں نظر بند کردیا گیا۔

وہ کسی مقدمے میں سزا یافتہ نہیں ہیں اور صرف نو مئی کے ایک مقدمے میں جیل گئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نظر بندی کی وجوہات ثابت کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی آڈیو یا ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ اس نوعیت کے ایک کیس میں عدالت پہلے بھی چھبیس جنوری دو ہزار چھبیس کو نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دے چکی ہے۔عدالت نے متعلقہ نظر بندی آرڈر پیش کرنے کی ہدایت کی، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے نظر بندی کا حکم پڑھ کر سنایا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری محمد نواز نے بھی عدالت کے روبرو نظر بندی سے متعلق حکومتی آرڈر پڑھ کر سنایا۔جسٹس فاروق حیدر نے حکومتی موقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ کی بات پوری طرح سمجھ نہیں آرہی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے کہا جارہا ہے کہ عثمان فاروق کا پارٹی سے تعلق نہیں، پھر اس کے برعکس بات کی جارہی ہے۔ نظر بندی کے آرڈر میں تاریخ کا بھی ذکر نہیں اور جو بات بتائی گئی ہے وہ آپس میں مطابقت نہیں رکھتی۔

جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ اگر کوئی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں اور وہ قابل دست اندازی پولیس تھیں تو کیا اس بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا؟ ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے مقدمے کی بنیاد پر نظر بندی کے آرڈر جاری نہیں ہوسکتے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ نظر بندی ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے موثر دستاویزات درکار ہیں۔ جسٹس فاروق حیدر نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ آپ کے پاس موجود کوئی ایک دستاویز دکھا دیں۔حکومتی لاء افسران نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نظر بند شخص کے پاس اپیل کا فورم موجود تھا لیکن انہوں نے متعلقہ حکومتی فورم سے رجوع نہیں کیا۔ استدعا کی گئی کہ نظر بندی کے خلاف دائر درخواست خارج کی جائے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ نے موقف اختیار کیا کہ کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر پٹیشن دائر نہیں کی جاسکتی۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ عرفان خان لودھی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او درخواست گزار کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی عداوت ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عثمان فاروق نے اپنے تنظیمی عہدے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور نظر بندی کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔لاء افسر نے مزید کہا کہ اتھارٹی نظر بندی کی وجوہات فوری طور پر فراہم کرنے کی پابند نہیں، اس کے لیے قانون کے تحت پندرہ روز کا وقت دیا جاتا ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران متعلقہ ایس ایچ او سے بھی استفسار کیا کہ کیا عثمان فاروق کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے؟ ۔ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ نظر بند ہونے والے شخص کے خلاف اس وقت کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔

جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا عثمان فاروق کے دیگر افراد کے ساتھ اکٹھے ہوکر کسی منصوبہ بندی کرنے کی کوئی آڈیو یا ویڈیو موجود ہے؟ ۔ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی آڈیو یا ویڈیو موجود نہیں۔عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محمد فاروق کی جانب سے دائر نظر بندی کے خلاف درخواست منظور کرلی اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما عثمان فاروق کو نظر بند کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں