سندھ ہائی کورٹ 6

سندھ ہائیکورٹ: یلو لائن کیس میں تحقیقاتی اداروں کے کردار پر عدالت برہم

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ضمیر عباسی کے خلاف ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ ایڈوانس ادائیگیوں کے کیس میں چالان پیش نہ کیے جانے پر سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب کو اینٹی کرپشن کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دینے کا عندیہ دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ضمیر عباسی کے خلاف درج پہلے مقدمے کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے ضمیر عباسی کے خلاف ساڑھے 8 ارب روپے کی ایڈوانس ادائیگیوں سے متعلق کیس کا چالان تاحال پیش نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ “لگتا ہے تحقیقاتی ادارے ملزم سے ملے ہوئے ہیں۔” عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف تحقیقات اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئیں؟عدالت نے معاملے پر مزید سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس اور اینٹی کرپشن کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیتے ہیں۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل بیرسٹر علی زیدی نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین اینٹی کرپشن کی جانب سے شوکاز نوٹس کے جواب جمع کرا دیے گئے ہیں۔عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ضمیر عباسی کے وکیل کی جانب سے اینٹی کرپشن کے درج کردہ مقدمے کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے، جس پر عدالت میں کارروائی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں