حیدرآباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں “معرکۂ حق” کا جشن منایا جا رہا ہے اور آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب متحد ہوکر امن و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے مقصد سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونےوالوں کو خوش آمدید کہا جائے گا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوفی بزرگ، عظیم شاعر اور روحانی رہنما حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ کے 282 ویں سالانہ عرس مبارک کے موقع پر درگاہ پر چادر چڑھا اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔
بھٹ شاہ پہنچنے پر صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ سندھ امن و محبت کی دھرتی ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی سمیت ملک کے تمام بزرگانِ دین نے ہمیشہ عالمی امن اور بھائی چارے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹائی کی لازوال شاعری اور پیغام پر عمل پیرا ہوکر ہم ملکی اور عالمی سطح پر انتہا پسندی اور نفرت کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں “معرکۂ حق” کا جشن منایا جا رہا ہے اور آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب متحد ہوکر امن و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جو ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہوں گے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی بعض حلقے پیش کرتے ہیں۔ صوبے میں امن قائم رکھنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ معصوم مسافروں اور معذور افراد کے قتلِ عام کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان میں حالیہ قتل کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور معاشرے میں اس قسم کے جرائم کسی قیمت پر برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ایک سوال پر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ زائرین کو فضائی اور بحری سفر کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ آسانی مل سکے۔
انہوں نے سندھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں “جرنلسٹس پروٹیکشن بل” پاس کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی مثبت اور ذمہ دار صحافت کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور کسی صحافی کی آواز کو دبایا نہیں جائے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے عورت کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا، ان کی شاعری میں امن، محبت اور بھائی چارے کا درس نمایاں ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بھٹ شاہ میں متعدد ترقیاتی منصوبے دیے اور سندھ کی روایت ہے کہ وہ ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرس کے دوسرے روز وزیراعلیٰ بلوچستان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے عوام ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزرانے درگاہ پر حاضری دی، مزار پر چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی، امن و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ عرس مبارک کی تقریبات میں سندھ بھر اور ملک کے مختلف حصوں سے زائرین کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔









