گورنر سندھ 8

سیرت النبی ۖ کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، گورنر سندھ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سیرت النبی ۖ ہمارے لیے مکمل ضابطۖ حیات ہے، نبی کریمۖ کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جبکہ نوجوان نسل کو سیرت طیبہ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیرت النبی ۖ صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے ہے۔

گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ سیرت النبی ۖ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو حضور اکرمۖ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہوگا، کیونکہ سیرت طیبہ پر عمل کے ذریعے معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج پاکستان کا نوجوان حضور اکرمۖ کی زندگی سے صرف ایک چیز سیکھے تو وہ کردار ہونا چاہیے، کیونکہ کردار بن جائے تو علم بھی سنور جاتا ہے، طاقت امانت بن جاتی ہے، دولت وسیلہ بن جاتی ہے اور قیادت انسانی خدمت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ نبوت سے قبل مکہ کے لوگ حضور اکرم ۖ کو صادق و امین کہتے تھے۔

یہ القاب کسی حکومت یا ادارے نے نہیں دیے تھے بلکہ معاشرے نے آپ ۖ کے کردار کو دیکھ کر یہ گواہی دی تھی۔ نوجوانوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے کہ عہدہ ملنے سے پہلے کردار بنائیں، کیونکہ عہدہ اختیار دے سکتا ہے لیکن کردار اعتبار دیتا ہے اور ڈگری ملازمت دے سکتی ہے مگر کردار اعتماد پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیرت النبیۖ ہمیں مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے، اختیار ملنے کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے، مخالفت میں برداشت اور فتح کے بعد معاف کرنے کا درس دیتی ہے۔ کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک اور اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ انصاف بھی اسوہ حسنہ کا اہم حصہ ہے۔

سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ حضور اکرم ? صرف مبلغ نہیں بلکہ عظیم معاشرتی رہنما اور قانون ساز بھی تھے۔ آپ ۖ نے ایسے منصفانہ معاشرے اور ریاست کی بنیاد رکھی جہاں انصاف، امانت، ذمہ داری، حقوق العباد، معاہدات، تجارت، خاندان، پڑوسیوں، یتیموں، مسکینوں اور کمزور طبقات کے حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ قانون صرف کتاب میں نہیں بلکہ انسان کے کردار اور عملی زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ حضور اکرم ۖ نے انسانیت کو محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیا اور عدل و انصاف کا عملی نمونہ پیش کیا۔گورنر سندھ نے علامہ محمد اقبال کا شعر بھی پڑھا:کی محمدۖ سے وفا تْو نے تو ہم تیرے ہیں،یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عشقِ رسول ? صرف زبان سے اظہار کا نام نہیں بلکہ کردار اور عمل سے اس کا عملی اظہار ضروری ہے۔ محبتِ رسول ۖ کا تقاضا ہے کہ ہمارے رویوں میں رحم، برداشت اور انصاف نمایاں ہو اور ہم اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انصاف کا مظاہرہ کریں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سیرت طیبہ کو علمی اور نظریاتی طور پر پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں تمام مضامین کے ذریعے سیرت النبی ۖ سے رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ کا مطالعہ صرف فکری اور نظریاتی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے کردار اور عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ ہمیں مسلسل اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم سیرت النبیۖ پر کس حد تک عمل پیرا ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 23 سالہ دورِ نبوت میں حضور اکرمۖ نے ایک ظالم اور منتشر معاشرے میں عظیم تبدیلی پیدا کی، ہمیں بھی اپنے معاشرے میں اسوہ? حسنہ کو رائج کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نوجوانوں کی اصلاح اور کردار سازی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تربیت سیرت النبی ۖکی روشنی میں کی جائے۔چیئرمین قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی خورشید احمد ندیم نے کہا کہ حضور اکرمۖ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے اور آپۖ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ امت کے اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ سیرت النبیۖ اور ختم نبوت کے عقیدے کو اپنی زندگیوں کا محور بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت حضور اکرم ۖ کو رول ماڈل بنا کر کی جائے اور ہر استاد کردار سازی کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کی جانب سے سیرت النبی ۖکلبز قائم کیے گئے ہیں جبکہ 9 جامعات میں سیرت النبی ۖ چیئرز بھی قائم کی گئی ہیں۔سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب نے کہا کہ معاشرے میں بے راہ روی اور انتشار کا خاتمہ سیرت النبی ۖ پر مکمل عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حضور اکرم ۖ کی سیرت طیبہ پر عمل کریں اور قرآن پاک کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

علامہ سید رضی جعفر نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو آج مختلف فکری اور معاشرتی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے تعلیم کے ساتھ کردار سازی کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ گھروں، اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نصاب میں سیرت النبی ۖکو شامل کیا جانا چاہیے۔ممبر قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے کہا کہ نبی کریمۖ نے اپنے مکی و مدنی دور میں نوجوانوں کو ہمیشہ اہمیت دی۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر تعلیمی ادارے کی لائبریری میں سیرت النبی ۖ کے لیے خصوصی گوشہ قائم کیا جائے۔علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ ایک دوسرے کو قبول کرنا اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو تحمل اور برداشت کا سبق دینا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔

سیمینار میں وزیر مملکت و وزیراعظم کے معاون خصوصی فہد ہارون، گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن، وزیراعظم یوتھ پروگرام سندھ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق، شاہ محمد شاہ، بشیر میمن، اعجاز فاروقی، خرم عباس بھٹی اور دیگر علمائے کرام، مشائخ، اہلِ علم و دانش اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔سیمینار کے اختتام پر گورنر سندھ نے تمام شرکاء اور علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں