حافظ نعیم الرحمن 5

جماعت اسلامی کا دھرنا جاری،12 ربیع الاول کے بعد شٹر ڈائون ،لانگ مارچ کا اعلان

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف لاہور ،کراچی، اور پشاور میں دھرنا مسلسل 8 ویں روز بھی جاری رہا۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے آٹھویں روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک دھرنے جاری رہیں گے، 12 ربیع الاول کے بعد شٹر ڈائون اور ااسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔انہوںنے کہا کہ ہماری جدوجہد فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، ہم اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

موجودہ تین دھرنے اپنی جگہ جاری رہیں گے جبکہ مختلف شہروں میں بھی احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔ 11 اور 12 ربیع الاول کی رات دھرنوں کے مقامات پر محافل میلاد اور سیرت کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوکل ڈیزل کو امپورٹڈ ڈیزل کی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے اور ریفائنریاں لوکل ڈیزل کو امپورٹڈ قیمت پر فروخت کرکے منافع کما رہی ہیں۔ حکومت اور بیوروکریسی کو پٹرولیم مصنوعات میں منافع خوری کا علم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بھی عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لوٹا جا رہا ہے جبکہ اس کاروبار میں چند لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عوام، طلبہ، نوجوان اور کسان مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں مافیاز کا راج ہے اور عوام کو مسلسل لوٹا جا رہا ہے، حکومت اور شوگر مل مالکان نے چینی کے معاملے میں بھی لوٹ مار شروع کردی ہے،حکومت نے قلت کا جواز بنا کر 7 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی۔ عوام کا سڑکوں پر پرامن رہنا ہی حکومت کے لیے عذاب بن جاتا ہے،پرتشدد احتجاج ایک دن کا کھیل ہوتا ہے تاہم اس سے نقصان ہوتا ہے، کارکن گرفتار ہوتے ہیں اور بعد میں رہنما آپس میں مل بیٹھتے ہیں۔انہوں نے حکومتی نمائندوں کے اس موقف کو بھی مسترد کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر دھرنے نہ ہوتے تو قیمتیں کئی گنا بڑھائی جاتیں، حکومت سنجیدہ بات کرے گی تو جماعت اسلامی بھی بات کرے گی تاہم پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔عمران خان کے میڈیکل چیک اپ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کو عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں