کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں سکھر میں 114 ایکڑ اراضی کی ملکیت کی منتقلی سے متعلق نیب انکوائری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دور ان جسٹس عدنان الکریم میمن نے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی جس کے بعد کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی گئی۔سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس سلیم جیسر بھی اس سے قبل درخواست کی سماعت سے معذرت کرچکے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل ہارون شیخ نے عدالت کو بتایا کہ سکھر میں 114 ایکڑ زمین کی ملکیت کی منتقلی کے خلاف نیب انکوائری کررہا ہے، سکھر ٹاؤن شپ ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کے معاملے پر پہلے بھی متعدد انکوائریاں ہوچکی ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ لینڈ گریبرز کے مختلف گروہ ہیں، جسے ریلیف نہ ملے وہ ججوں کے خلاف بھی مہم چلانا شروع کردیتا ہے۔نیب کے وکیل محمد الطاف نے مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ آف ریونیو کے حکام کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔









