ہائیکورٹ 6

قانون کے مطابق درست تعین کیے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں ہو سکتی’ لاہور ہائیکورٹ

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے مطابق درست تعین کیے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں ہو سکتی،محض سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آنا نیلامی کے طریقہ کار کی قانونی خامیو ں کو ختم نہیں کرتا،عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے جائیداد کی نیلامی کے خلاف دائر سول نظرثانی درخواست پر فیصلہ جاری کیا،8صفحات کے فیصلے کوعدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔ فیصلے کے مطابق پنجاب پارٹیشن آف امویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل اندرونی نیلامی کرانا فرض ہے،ریزرو پرائس کا قانون کے مطابق درست تعین کیے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں ہو سکتی،محض سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آنا نیلامی کے طریقہ کار کی قانونی خامیو ں کو ختم نہیں کرتا،عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔

سابقہ 50لاکھ کی بولی کے باوجود ساڑھے 36لاکھ میں نیلامی کی منظوری پر ہائیکورٹ نے اعتراض کرتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا ساڑھے 36لاکھ کی نیلامی کی توثیق کا حکم کالعدم قرار دیدیا،اور ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا ازسرنو تعین کرنے کی ہدایت کردی گئی،خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرنے کا موقع دیدیا گیا۔

ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر خریدار طے شدہ رقم ادا نہیں کرے گا تو درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی ہوگی،دیگر شریک مالکان کی حد تک خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے،جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق جاری شدہ ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بحال رہے گی ۔ ہائیکورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظورکرتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلہ سازی کے لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ریمانڈ کردیااور ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو تمام کارروائی تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دے دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں