تحریر:حافظ حسن احمد
بس یا ویگن میں سفر کے دوران ہر مسافر کو پُرسکون ماحول کی توقع ہوتی ہے، لیکن اونچی آواز میں موسیقی، موبائل فون کے لاؤڈ اسپیکر پر چلنے والی ویڈیوز اور پورٹیبل اسپیکر کا استعمال اکثر اس توقع کے برعکس ہوتا ہے۔ بعض اوقات ڈرائیور موسیقی چلا رہے ہوتے ہیں، تو کہیں مسافر اپنے موبائل فون پر گانے یا ویڈیوز بلند آواز میں سنتے ہیں۔ اس طرح ایک شخص کی تفریح دوسرے مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتی ہے، جبکہ طویل سفر میں شور سے بچنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
عوامی ٹرانسپورٹ میں مسافر مختلف عمروں اور حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی کو سفر کے دوران آرام کرنا ہوتا ہے، کسی کو پڑھنے یا کام کرنے کے لیے توجہ درکار ہوتی ہے، جبکہ کچھ مسافر طبیعت کی خرابی یا سر درد کی وجہ سے خاموش ماحول چاہتے ہیں۔ ایسے میں بلند آواز میں موسیقی یا ویڈیوز چلانا دوسروں کی ضروریات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ہیڈ فون کا استعمال اور آواز کو دوسروں تک پہنچنے سے روکنا اس مسئلے کا سادہ حل ہے، لیکن اس کے لیے انفرادی ذمہ داری کے ساتھ مناسب قواعد اور ان پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
دورانِ سفر شور کا معاملہ صرف بے آرامی تک محدود نہیں بلکہ صحت کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ بلند آواز اور شور جسم میں تناؤ کا ردِعمل پیدا کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتے ہیں۔ سڑکوں کے ٹریفک شور پر ہونے والی تحقیق میں طویل مدتی شور اور ہائی بلڈ پریشر سمیت بعض قلبی امراض کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا ہے۔ مسلسل شور نیند اور آرام کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ بار بار پیدا ہونے والا تناؤ بھی صحت کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہ واضح رہنا چاہیے کہ دل کی صحت سے متعلق سائنسی شواہد زیادہ تر مسلسل یا طویل مدتی ماحولیاتی شور سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی ایک بس کے سفر میں اونچی آواز میں موسیقی سننے کو دل کی بیماری یا دل کے دورے کی براہِ راست وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اصل تشویش شور کا بار بار سامنا، اس سے پیدا ہونے والا تناؤ اور آرام میں خلل ہے۔ اس لیے دورانِ سفر شور کو محض معمولی ناگواری سمجھنے کے بجائے مسافروں کی صحت اور معیارِ زندگی کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اس مسئلے کا ایک پہلو قانونی بھی ہے۔ پنجاب کے Provincial Motor Vehicles Rules, 1969 کے قاعدہ 226-A میں پبلک سروس گاڑیوں میں موسیقی چلانے پر پابندی درج ہے، خصوصاً جب مسافر گاڑی میں بیٹھے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ میں موسیقی کے استعمال کے حوالے سے قانونی پابندی موجود ہے۔ تاہم، کسی مسافر کے اپنے موبائل فون کے لاؤڈ اسپیکر سے موسیقی یا ویڈیوز چلانے کی صورت اس قاعدے میں الگ سے واضح نہیں کی گئی۔
اسی طرح، پنجاب کا The Punjab Sound Systems (Regulation) Act, 2015 ساؤنڈ سسٹمز کے استعمال کو منظم کرتا ہے، لیکن ذاتی موبائل فون سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے شور پر اس قانون کے اطلاق کو واضح قانونی بنیاد کے بغیر یقینی نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 268 عوامی اذیت یا Public Nuisance سے متعلق ہے، تاہم اس کا اطلاق بھی واقعے کے حالات اور قانونی تشریح پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر صورت میں ذاتی موبائل فون پر بلند آواز میں موسیقی چلانا خودبخود ایک مخصوص جرم بنتا ہے۔ متعلقہ حکام کو موجودہ قوانین کے اطلاق کی وضاحت کرنی چاہیے اور، اگر ضروری ہو، تو دورانِ سفر موبائل فون اور پورٹیبل اسپیکر سے پیدا ہونے والے غیر ضروری شور کی روک تھام کے لیے واضح ضابطے وضع کرنے چاہییں۔
اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے منتظمین اور متعلقہ حکام کو شکایات کے مؤثر طریقۂ کار اور موجودہ پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ ساتھ ہی، مسافروں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مشترکہ جگہ میں اپنی پسند کی آواز دوسروں پر مسلط کرنا مناسب نہیں۔ ہیڈ فون کا استعمال، آواز محدود رکھنا اور دوسروں کے آرام کا احترام کرنا چھوٹے مگر اہم اقدامات ہیں۔
دورانِ سفر پُرسکون ماحول فراہم کرنا محض سہولت نہیں بلکہ مسافروں کے آرام اور صحت سے متعلق ایک اہم ضرورت ہے۔ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، ذاتی آلات سے پیدا ہونے والے شور کے بارے میں واضح رہنمائی اور شہری ذمہ داری کے ذریعے عوامی ٹرانسپورٹ میں غیر ضروری شور کم کیا جا سکتا ہے، تاکہ سفر تمام مسافروں کے لیے زیادہ آرام دہ اور پُرسکون ہو۔









