انسولین 6

الزائمر اور انسولین کی مزاحمت میں تعلق، ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح زیرِ بحث

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جسم میں انسولین کی پیداوار کم ہونے یا خلیوں کی جانب سے انسولین کے خلاف مزاحمت کے باعث گلوکوز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

اس بیماری کی پیچیدگیوں میں دل کے امراض، فالج، بینائی متاثر ہونے اور گردوں کے ناکارہ ہونے کا خطرہ شامل ہے۔طبی ماہرین طویل عرصے سے ذیابیطس کی دو عام اقسام، ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو، پر تحقیق کررہے ہیں، تاہم بعض تحقیقات میں الزائمر کے مرض اور دماغ میں انسولین کے نظام کی خرابی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض ماہرین اس کیفیت کے لیے ”ٹائپ تھری ذیابیطس” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ویک فاریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر اور الزائمر ڈیزیز ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزین کرافٹ کے مطابق یہ اصطلاح اس تصور کی وضاحت کرتی ہے کہ الزائمر کے مرض میں دماغ کے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت یا اس کے پیغامات کی ترسیل میں خرابی کا کردار ہوسکتا ہے۔

یہ کیفیت ٹائپ ون ذیابیطس سے مختلف ہے، جس میں مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں جسم کے خلیے انسولین کے لیے مناسب ردِعمل ظاہر نہیں کرتے اور خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے۔الزائمر کے مرض میں دماغ کے اندر ہونے والی تبدیلیوں اور انسولین کے نظام کے درمیان تعلق پر تحقیق جاری ہے، تاہم ٹائپ تھری ذیابیطس کو الزائمر کی باقاعدہ طبی تشخیص یا ذیابیطس کی الگ تسلیم شدہ قسم قرار نہیں دیا جاتا۔واضح رہے کہ ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح کو لبلبے کو نقصان پہنچنے کے نتیجے میں ہونے والی ذیابیطس کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، جسے طبی اصطلاح میں ٹائپ تھری سی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ یہ الزائمر سے منسلک تصور سے مختلف کیفیت ہے
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں