راولپنڈی (رپورٹنگ آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات میں مایوس کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ پر داہگل ناکے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے اور آج بھی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد چاہتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑنا چاہیے، جبکہ مذاکرات کی میز سے اٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر مشروط طور پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی تھی، اگر ان کے پاس اختیار نہ ہوتا تو وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کیوں بیٹھتے؟ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں انہیں مایوسی ہوئی۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصافکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کے علاج معالجے اور بچوں سے فون پر بات کروانے کے معاملات شامل تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی اور صوبائی معاملات پر بات کرنا چاہتی تھی، تاہم مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے تھا۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت آج بھی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی خواہاں ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ متاثر ہو اور اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو خیبرپختونخوا سے ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔
اپوزیشن رہنما محمود اچکزئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور پی ٹی آئی نے کبھی ان پر سوال نہیں اٹھایا۔
مشعال یوسفزئی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے لائن کراس کی ہے اور انہیں نوٹس جاری کیا جائے گا، انہوں نے مشعال یوسفزئی کی جانب سے کی گئی باتوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔









