کینسر 12

ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی طبی معائنہ لازم،خواتین اپنی صحت سے باخبر رہیں

لاہور 20اکتوبر(زاہد انجم سے)پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے کہا کہ چھاتی کا سرطان خواتین کی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے صحت یابی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں انہوں نے زور دیا کہ خواتین معاشرتی جھجھک، خوف اور غفلت کو اپنی صحت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں، کیونکہ ابتدائی علامات پر توجہ اور فوری میڈیکل مشاورت قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر بنانے اور باقاعدہ طبی معائنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

اس سلسلے میں کائنی یونٹ ون کے زیر اہتمام لاہور جنرل ہسپتال میں پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم کی قیادت میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیااس موقع پر وائس پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد، ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، پروفیسر توصیف فاطمہ، پروفیسر آف گائنی ڈاکٹر امنہ احسن چیمہ، پروفیسر آسیہ خانم، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، فیکلٹی ممبران، ینگ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف نے بھرپور شرکت کی۔
ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ جنرل ہسپتال میں مریضوں کو جدید تشخیصی اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آؤٹ ڈور میں سٹیٹ آف دی آرٹ بریسٹ کلینک میں چیک اپ اور تشخیصی سہولیات دستیاب ہیں۔ گزشتہ سال سات ہزار مریضوں کا طبی معائنہ ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طبی سہولیات سے استفادے کے ساتھ خواتین میں اس مرض سے متعلق درست معلومات عام کی جائیں تاکہ کسی بھی مشتبہ علامت کو نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ آگاہی مہمات کے ذریعے خواتین کو اپنی صحت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ترغیب دی جائے

پروفیسر آف گائنی ڈاکٹر آمنہ احسن چیمہ اور پروفیسر توصیف فاطمہ نے بیماری کی علامات اور تشخیصی مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چھاتی میں گلٹی یا دیگر غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طبی معائنہ کروانا ضروری ہے خواتین خود معائنے کے ذریعے اپنی چھاتی میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ رہ سکتی ہیں، تاہم حتمی تشخیص کے لیے مستند معالج کی رائے بنیادی اہمیت رکھتی ہے انہوں نے بتایا کہ میموگرافی کی ضرورت اور موزوں وقت کا تعین عمر، طبی کیفیت اور انفرادی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے

وائس پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ طبی اداروں کی ذمہ داری صرف علاج معالجے تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا بھی اہم فریضہ ہے انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مستند طبی معلومات ہر گھر تک پہنچائی جائیں تاکہ خواتین بروقت رہنمائی حاصل کریں اور غیر مصدقہ معلومات سے محفوظ رہ سکیں

میڈیا سے گفتگو میں طبی ماہرین نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لیے کلینیکل معائنہ، میموگرافی اور ضرورت کے مطابق بائیوپسی اہم طریقے ہیں متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند وزن برقرار رکھنا عمومی صحت کے لیے مفید ہے، جبکہ خاندانی تاریخ رکھنے والی خواتین کو اپنے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے طبی مشاورت ضرور حاصل کرنی چاہیے مرض کی نوعیت اور مرحلے کے مطابق سرجری، کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی اور ہارمونل تھراپی سمیت مختلف جدید طریقہ ہائے علاج استعمال کیے جاتے ہیں

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چھاتی کے سرطان کے خلاف آگاہی کا پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے گا تاکہ خواتین بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مستند طبی رہنمائی کے ذریعے بہتر صحت اور محفوظ زندگی کی جانب قدم بڑھا سکیں اس موقع پر پروفیسر حسن سلمان ملک، ڈاکٹر کریم اللہ، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر عمارہ اختر، ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر فاطمہ آصف، ڈاکٹر سندس طاہر، پرنسپل کالج آف نرسنگ ثمینہ کوثر اور بڑی تعداد میں ہیلتھ پروفیشنلز بھی موجود تھے
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں