جنرل ہسپتال 30

جنرل ہسپتال اور پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈرماٹولوجسٹس کے اشتراک سے سمپوزیم کا انعقاد

لاہور، 26 جولائی(زاہد انجم سے)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ جدید طبی تحقیق اور نئی ادویات کی بدولت امراضِ جلد کے علاج میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، جس سے مریضوں کو بہتر اور زیادہ مؤثر علاج کی سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ ایٹوپک ڈرماٹائٹس جیسے پیچیدہ اور دائمی جلدی امراض کے علاج میں جدید تھراپیز اور بائیولوجیکل ادویات امید کی نئی کرن ثابت ہو رہی ہیں۔ معالجین کو چاہیے کہ وہ طب کے میدان میں سامنے آنے والے جدید رجحانات اور ایڈوانس ریسرچ سے مسلسل آگاہ رہیں تاکہ مریضوں کو عالمی معیار کی بہترین طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال اور پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈرماٹولوجسٹس کے اشتراک سے منعقدہ سمپوزیم ”ایٹوپک ڈرماٹائٹس کے علاج میں نئے امکانات: دستیاب تھراپیز کے دائرہ کار میں توسیع” کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم کے چیف آرگنائزر شعبہ امراضِ جلد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عاطف شہزاد تھے۔

سمپوزیم میں ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر طارق رشید، پروفیسر اعجاز حسین، پروفیسر فاریہ اسد اور ڈاکٹر طاہر کمال، ڈاکٹر وجیہہ سعید، ڈاکٹر سعدیہ صدیقی، ڈاکٹر آیما شاہین، ڈاکٹرثمرین رفیع، ڈاکٹر ثناء معظم، ڈاکٹر احمد کاظمی، ڈاکٹر حناء منظور، ڈاکٹر ندا ایلی، ڈاکٹر محمد عروج سمیت امراضِ جلد کے ماہرین، کنسلٹنٹس، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور میڈیکل طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینا عصرِ حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے پروگرامز نوجوان ڈاکٹرز کو جدید طبی رجحانات سے روشناس کراتے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے سمپوزیم کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

سمپوزیم کے دوران ماہرین نے ایٹوپک ڈرماٹائٹس کے جدید علاج، نئی ادویات، بائیولوجیکل تھراپیز اور مریضوں کی بہتر نگہداشت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مسلسل فالو اپ کے ذریعے اس مرض کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

شعبہ امراضِ جلد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عاطف شہزاد نے کہا کہ ایٹوپک ڈرماٹائٹس ایک دائمی مرض ہے جو مریضوں کے جسمانی اور نفسیاتی معیارِ زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے، تاہم جدید تحقیق اور ادویات نے اس کے علاج کے امکانات کو بہت وسیع کر دیا ہے۔سمپوزیم کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں شرکاء نے مختلف طبی و تحقیقی مسائل پر ماہرین سے تفصیلی گفتگو کی۔

ڈاکٹر سعدیہ صدیقی نے مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کے لیے ایسے پروگرامز کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں