اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سید نیئر بخاری نے کہاہے کہ جمہوریت کے تسلسل کیلئے (ن)لیگ کی حمایت کی ،پارلیمانی جمہوری نظام کا تسلسل پیپلز پارٹی کا مرہونِ منت ہے۔
اپنے بیان میں سید نیئر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوری نظام کے تسلسل کی خاطر ن لیگ کی پارلیمان میں حمایت کی اور آج پارلیمانی جمہوری نظام کا تسلسل پیپلز پارٹی کا مرہونِ منت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی حمایت نہ کرتی تو مریم نواز کے چچا وزیرِاعظم اور مریم نواز پنجاب کی وزیرِاعلیٰ نہ ہوتیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن کی بارش سے پنجاب کی سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور کل کی بارش نے لاہور و گوجرانوالہ کی سڑکوں کا پول کھول دیا ہے،ترقی کی حالت یہ ہے کہ ہر سال پنجاب سیلاب میں ڈوب جاتا ہے۔
نئیر بخاری نے کہا کہ کرپشن کے مقدمات کا سامنا سب سے زیادہ ن لیگ کے رہنماؤں کو ہے۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کشمیر بنانے کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے،پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ امن و امان بہتر ہونے تک انتخابات ملتوی کیے جائیں لیکن ن لیگی وزراء کہتے تھے کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، اب جب کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے تو آئین کا ذکر کرنے والے لیگی وزراء کہاں گئے؟
انہوں نے واضح کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں پیپلز پارٹی ہر صورت انتخابات میں شریک ہو کر اکثریت حاصل کرے گی اور عوامی قوت سے پارلیمان میں اکثریتی پارٹی بن کر کشمیر میں اپنا وزیرِاعظم بنائے گی۔ میاں نواز شریف پر بات کرتے ہوئے نئیر بخاری نے کہا کہ ان کی آنکھ دیر سے کھلی ہے،وہ مہاجرین کی سیٹ پر بھی امیدوار نہیں ہیں،پاکستان کے وزیرِاعظم نہ بن سکے تو اب کشمیر کی خواہش پیدا ہو گئی ہے تاہم خوشی ہے کہ نواز شریف سیاست میں واپس آ گئے ہیں، خواہ وہ وزیرِاعظم کشمیر بننے کی خواہش پر ہی سہی۔









