مراد علی شاہ 18

جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر، تیز اور مربوط بنائی جائیں،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امن و امان کی صورتحال پر کسی بھی قسم کی غفلت کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دہشت گردوں، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر، تیز اور مربوط بنائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار، ریاض شاہ شیرازی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، محکمہ داخلہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران سندھ میں سنگین جرائم، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بریفنگ کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ، اداروں کے مؤثر تعاون اور ہدفی کارروائیوں کے باعث امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران قتل کے واقعات میں 17.3 فیصد، قتل کے ساتھ ڈکیتی کے واقعات میں 19.4 فیصد، زخمی کرنے والی ڈکیتی میں 25.4 فیصد، ڈکیتی و رہزنی میں 18.9 فیصد، کار چھیننے کے واقعات میں 23.9 فیصد، موٹرسائیکل چھیننے میں 31.1 فیصد اور موٹرسائیکل چوری میں 22.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ان اعداد و شمار کو پولیس کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون چھیننے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر خصوصی توجہ دی جائے۔کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شہر میں مجموعی اسٹریٹ کرائم میں 11.77 فیصد کمی آئی، جبکہ ڈکیتی کے دوران اموات میں 38.3 فیصد اور زخمی ہونے کے واقعات میں 39.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 24.3 فیصد اور موٹرسائیکل چھیننے کے واقعات میں 27.8 فیصد کمی سامنے آئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ اسٹریٹ کرائم کے ہاٹ اسپاٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔

پولیس آپریشنز پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 2 ہزار 184 پولیس مقابلے ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد ایک ہزار 574 تھی۔ سندھ پولیس نے ایک ہزار 87 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا، 187 خطرناک ملزمان ہلاک کیے اور ہزاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ اس دوران غیر قانونی اسلحے کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی تعداد میں پستول، ریوالور اور دیگر ہتھیار برآمد کیے گئے۔انسدادِ منشیات مہم کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 7 ہزار 27 چھاپے مارے گئے، 9 ہزار 96 ملزمان گرفتار کیے گئے اور 7 ہزار 468 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں ہیروئن، چرس، آئس اور شراب برآمد کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں اور آن لائن ڈرگ نیٹ ورکس کے خلاف خصوصی آپریشنز مزید مؤثر بنائے جائیں اور کسی بھی منشیات فروش یا اس کے سہولت کار سے رعایت نہ برتی جائے۔بھتہ خوری کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے 81 فیصد مقدمات ٹریس کیے گئے، کئی بدنام زمانہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا، متعدد ملزمان گرفتار ہوئے اور بیرون ملک مفرور چار بھتہ خوروں کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے۔اجلاس کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سال 2026 میں دہشت گردی کے واقعات میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سی ٹی ڈی نے 777 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 355 دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا، جن میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، جبکہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن نجاتِ مہران پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران 141 پولیس مقابلے ہوئے، 275 ڈاکو ہلاک کیے گئے، سیکڑوں گرفتاریاں عمل میں آئیں، مغویوں کو بازیاب کرایا گیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جبکہ 550 ڈاکو گرفتار یا ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس آپریشن کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ میں دو ہزار سے زائد چینی شہریوں کو جامع سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ چینی شہریوں، غیر ملکی سفارتی مشنز اور حساس تنصیبات کی فول پروف سیکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

سیف سٹی منصوبے اور اسمارٹ سرویلنس سسٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک ہزار 325 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جن سے ملزمان کی گرفتاری، چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی اور تفتیش میں نمایاں مدد ملی ہے۔ اسی طرح 1.4 ارب روپے کے سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کے تحت 40 ٹول پلازوں پر 381 کیمرے نصب کیے گئے، جن کی مدد سے 496 ملزمان گرفتار اور 349 گاڑیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔

ہائی ویز اور ٹریفک سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ پولیس ہائی وے پٹرول 2 ہزار 150 کلومیٹر شاہراہوں پر فعال ہے، جبکہ TRACS نظام کے تحت 12 لاکھ 40 ہزار سے زائد ڈیجیٹل چالان جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں 44 فیصد، اموات میں 19 فیصد اور زخمیوں کی تعداد میں 27 فیصد کمی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔سرحدی نگرانی کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر کے 139 کراسنگ پوائنٹس پر نگرانی سخت کی گئی ہے، جبکہ پولیس چوکیوں، اسنیپ چیکنگ، موبائل اور موٹرسائیکل پٹرولنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں حب۔کراچی، جامشورو۔حب، دادو۔خضدار، کشمور۔ڈیرہ بگٹی۔راجن پور، گھوٹکی۔رحیم یار خان اور ساحلی علاقوں سمیت اہم بین الصوبائی سرحدی مقامات کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جائے اور صوبے بھر میں امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں