کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے اربوں روپے مالیت کے رہن شدہ سامان کی مبینہ چوری کے مقدمے میں بینکنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔نجی کمپنی کے مالک طارق شفیع، ان کے بیٹوں اور دیگر ملزمان نے بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ مذکورہ ملزمان کے خلاف نجی بینک کے افسر آصف رضا کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔مقدمے کے مطابق ملزمان پر 1.105 ملین امریکی ڈالر مالیت کا بینک کے پاس رہن شدہ سامان چوری کرنے کا الزام ہے۔
اس معاملے پر ایف آئی اے بینکنگ سرکل نے 2020 میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی تھیں۔بینکنگ کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سائیڈ کلوز ہونے کے بعد کسی نئے گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جاسکتا۔بینکنگ کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں قائم بینچ نے کی، جس نے بینکنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد مقدمے کی مزید قانونی کارروائی کا معاملہ متعلقہ عدالتی فورم پر آگے بڑھے گا۔









