اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دارالحکومت کی پرائیویٹ زمینوں پر پہلے سے بنی ہوئی سوسائٹیز کے لیے ایسا حل نکالنا ہے کہ لوگوں کے گھر بھی بچ جائیں اور انہیں ریگولرائز بھی کر دیا جائے۔ اسلام آباد کو جدید ماڈل شہر بنانے کی جامع حکمتِ عملی کے تحت بیک وقت 30 سے زائد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
وزیراعظم ہائوس کے عقب میں واگزار کرائی گئی ایک ہزار کنال اراضی پر جدید سیاحتی مرکز کے قیام کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ٹریفک کے دبا ئوکو کم کرنے کے لیے اہم الیونتھ ایونیو منصوبے پر بھی جلد کام شروع کیا جا رہا ہے۔وہ کشمیر چوک کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت رہے تھے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوسائٹیز پہلے کی بنی ہوئی ہیں جہاں شہریوں کے گھر بن چکے ہیں، اراضی پرائیویٹ تھی جس کی منظوری لیے بغیر معاملات کو بائی پاس کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ایسا متوازن اور جامع حل تیار کیا جا رہا ہے جس سے عام شہریوں کے گھر بھی بچ جائیں اور ان سوسائٹیز کو قانونی دائرے میں لا کر ریگولرائز بھی کر دیا جائے، تاہم انہوں نے سخت تنبیہ کی کہ مستقبل کے لیے بنا منظوری اور بغیر زمین کے صرف فائلوں کی خرید و فروخت کا چکر اب کسی صورت نہیں چلنے دیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت کے مجموعی ترقیاتی وژن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 30 سے زائد ترقیاتی منصوبوں پر بیک وقت کام چل رہا ہے جبکہ نئے منصوبوں کی ایک طویل فہرست بھی پائپ لائن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد وفاقی دارالحکومت کو ایسا دلکش شہر بنانا ہے جہاں لوگ صرف کسی دفتری کام سے نہ آئیں بلکہ سیر و سیاحت کی غرض سے دو سے چار دن قیام کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جدید کرکٹ سٹیڈیم کا سنگ بنیاد بھی جلد رکھ دیا جائے گا۔
وزیراعظم ہاس کے عقب میں واگزار کرائی گئی قیمتی اراضی کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار کنال اراضی پر جدید سیاحتی مرکز، فائیو اسٹار ہوٹلز اور معیاری ریسٹورنٹس بنانے کے منصوبے کی دو سے تین بریفنگز اور پریزنٹیشنز مکمل ہو چکی ہیں اور اگلے ایک ماہ کے اندر اس حوالے سے عملی پیش رفت سامنے آ جائے گی۔جڑواں شہروں کے درمیان رابطوں اور سفری سہولیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الیونتھ ایونیو منصوبے پر جلد باقاعدہ کام شروع کیا جا رہا ہے جو اس وقت حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کی تکمیل سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان روزانہ آمد و رفت کرنے والے شہریوں کو بہترین اور متبادل سفری سہولت دستیاب ہوگی۔









