سندھ ہائی کورٹ 12

کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔پولیس نے دونوں لڑکیوں کو عدالت میں پیش کردیا۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ بڑی لڑکی نے قربان نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔

درخواستگزار کی وکیل بشری عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ بڑی لڑکی کی عمر 14 سال ہے قربان نامی شخص نے اغوا کیا۔ 14 سالہ بے بو 6 سالہ بہن علینا کو بھی ساتھ لے گئی تھی۔ کمرہ عدالت میں لڑکیوں کے باپ کی دہائیاں، ولاد حیات اللہ نے کہا کہ بچیوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں۔ لڑکی نے بیان دیا کہ والد ظلم کرتا تھا میں نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی۔

والد احاطہ عدالت میں بیٹیوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ لڑکیوں نے باپ سے ملنے سے انکار کردیا۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ دونوں بچیاں غریب رکشہ ڈرائیور حیات اللہ کی بیٹیاں ہیں، والد کی مدد کیلئے پھول بھیجتی تھیں۔ 12 مئی کو دونوں بچیاں گھر سے پھول بیچنے گئیں لیکن واپس نہیں آئیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ کو بازیاب کراکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں