کراچی/دبئی(رپورٹنگ آن لائن)سابق گورنر سندھ اور میری پہچان پاکستان کے روح رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش انتظامی، معاشی اور شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس، بااختیار بلدیاتی نظام اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرکے عوامی مسائل کے حل میں کامیابی حاصل کی، پاکستان میں بھی مؤثر مقامی حکومتوں کے قیام کی ضرورت ہے۔
دبئی میں ”فرینڈز آف کراچی” کے زیر اہتمام منعقدہ دعوتِ حلیم سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل، صلاحیتیں اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے، تاہم ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے سیاسی استحکام، اداروں میں ہم آہنگی اور طویل المدتی قومی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔تقریب میں سابق وفاقی وزیر بابر خان غوری، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کاروباری شخصیات، سماجی کارکنوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جو مشکل حالات میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر کے ذریعے قومی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرے۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے وقار، قومی سلامتی اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عوامی خدمت، میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ مضبوط معیشت، مؤثر بلدیاتی نظام اور عوام دوست پالیسیوں کے بغیر ملک کی پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، لیکن شہر کو ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی جانی چاہیے تاکہ مقامی سطح پر شہری مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر فیصلے کیے جاسکیں۔اس موقع پر بابر خان غوری نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
اختیارات کی منصفانہ تقسیم سے عوامی مسائل کم کرنے کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔تقریب میں شریک اوورسیز پاکستانیوں نے کہا کہ ملک کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد میں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس، مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف احتساب اور سرمایہ کاری دوست ماحول پاکستان کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔شرکاء نے ”فرینڈز آف کراچی” کی دعوتِ حلیم کو کراچی کی خوشگوار یادوں، سیاسی رواداری اور قومی یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔
اس موقع پر شہر قائد کے ماضی کے روشن اور ثقافتی رنگوں کو یاد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کراچی کو دوبارہ ترقی، امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے اجتماعی کردار ادا کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، معاشی خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ اوورسیز پاکستانیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے مفادات، ترقی اور مثبت تشخص کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔









