مریم اور نگزیب

عمران خان کی آمدن سے توشہ خانہ سے جتنا اضافہ ہوا اتنا پوری زندگی نہیں کمایا ،مریم اور نگزیب

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کی آمدن سے توشہ خانہ سے جتنا اضافہ ہوا اتنا پوری زندگی نہیں کمایا ،وزیر اعظم کی کرسی کو کاروباری کی کرسی بنایا ہوا تھا ،میرا تحفہ میرا مرضی نہیں ، تحفہ وزیر اعظم کے نام تھا جسے بیچا نہیں جاسکتا ،عمران خان کی اہلیہ کا ایف بی آر میں ٹیکس ریٹرن کا اندراج 2018ء کا ہے، ان کا نام عمران خان کے نام کے ساتھ نہیں،عمران خان نے تین چیزیں تین کروڑ میں خریدیں، یہ پیسہ کہاں سے آیا؟،

اس کی منی ٹریل دے دیں، عمران خان کو رسیدیں دینا پڑیں گی،الیکشن کمیشن کی کمیٹی میں تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارٹی فنڈنگ پر نہیں کوئی اعتراض نہیں لگایا، ان سے سوال پوچھیں تو دوسرے کو گالی اور دھمکیاں دیتے ہیں،پی ٹی اے کو ان روبوٹک ٹویٹس کے ذریعے قومی اداروں کے خلاف ٹویٹ کرنے پر فوری ایکشن لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے،وزارت داخلہ اور ایف آئی اے بھی الرٹ ہیں ،پاک فوج، عدلیہ، ریاست پاکستان کے خلاف مہم کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس پر زیرو ٹالرینس ہے، 2018 سے 2022تک امپورٹڈ حکومت تھی ،سب بھاگ رہے ہیں جلد شکنجے میں آئیں گے ،اختر جان مینگل جلد وفاقی کابینہ میں آئیں گے ،بلاول بھٹو زرداری بھی واپس آکر حلف اٹھائیں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اور نگزیب نے کہاکہ پاکستان کی معیشت تباہ کرنے والے معاشی دہشت گردوں نے اپنے دور میں اقتصادی اشاریوں پر بھی جھوٹ بولا، یہ جھوٹے ہیں، ان کا مقصد ہی جھوٹ بولنا ہے،یہ ملک میں مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری سمیت خراب خارجہ پالیسی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے 20 فیصد قیمت پر توشہ خانہ سے تحفے خرید کر چار گنا زائد قیمت پر فروخت کئے، میرا تحفہ میری مرضی نہیں، یہ تحفہ ریاست پاکستان کا ہے، ڈھٹائی کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ میرا تحفہ میری مرضی۔ انہوںنے کہاکہ سابق دور میں میڈیا اور پارلیمان کی آواز بند کی گئی، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔

انہوںنے کہاکہ بطور وزیراعظم عمران خان نے کم قیمت پر تحفہ خریدا اور چار گنا قیمت پر بازار میں فروخت کیا۔ انہوںنے کہاکہ کفلنک اور انگوٹھی اور گھڑی تین کروڑ میں خریدی، کفلنک اور انگوٹھی 14 کروڑ میں اور گھڑی 18 کروڑ روپے میں فروخت کی، تحفہ آپ کا نہیں، وزیراعظم کے نام تھا جسے بیچا نہیں جا سکتا۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران خان کی آمدن میں توشہ خانہ سے جتنا اضافہ ہوا ہے، اتنا انہوں نے پوری زندگی نہیں کمایا۔

انہوںنے کہاکہ عمران خان نے پوری زندگی کاروبار کے ذریعے 141 ملین روپے کی کمائی کی اور وزارت عظمیٰ کے منصب پر آنے کے بعد پہلے دو مہینوں کے دوران انہوں نے توشہ خانہ سے 85 ملین روپے حاصل کئے، عمران خان نے اپنے چار سالوں کے دوران توشہ خانہ سے 58 تحفے اپنے پاس رکھے جن کی مالیت 142 ملین بنتی ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ عمران خان کی 41 سال میں اتنی آمدن نہیں ہوئی جتنی انہوں نے توشہ خانہ سے چار سالوں میں آمدن حاصل کی۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے تین چیزیں تین کروڑ میں خریدیں، ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا، اس کی منی ٹریل دے دیں کیونکہ پہلے سال تو ان کی آمدن ہی اتنی نہیں تھی کہ وہ تین کروڑ کی چیزیں خرید سکیں، عمران خان کو رسیدیں دینا پڑیں گی۔

انہوںنے کہاکہ عمران خان کی اہلیہ کا ایف بی آر میں ٹیکس ریٹرن کا اندراج 2018ء کا ہے، اس میں ان کا نام عمران خان کے نام کے ساتھ نہیں، ایف بی آر ریٹرنز میں ان کا پرانا نام ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ عمران خان کو توشہ خانہ سے تحائف خریدنے کے لئے منی ٹریل دینا پڑے گی۔ انہوںنے کہاکہ اکبر ایس بابر نے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ پر اعتراضات اٹھائے تھے، ان سے سوال پوچھیں تو دوسرے کو گالی اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی کمیٹی میں تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارٹی فنڈنگ پر نہیں کوئی اعتراض نہیں لگایا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے جتنے اکائونٹس ڈیکلیئر ہیں وہ ٹھیک ہیں، وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں لگا سکے۔

مریم اورنگزیب نے کہاکہ اسٹیٹ بینک نے پی ٹی آئی کی ان ڈیکلیئرڈ اکائونٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو دی ہیں،آج تک مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ پر کوئی مراسلہ نہیں بھیجا گیا، مریم اورنگزیب نے کہاکہ پی ٹی آئی نے روبوٹک ٹویٹس اور سافٹ ویئر کے ذریعے قومی اداروں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے، پی ٹی اے کو ان روبوٹک ٹویٹس کے ذریعے قومی اداروں کے خلاف ٹویٹ کرنے پر فوری ایکشن لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی زیر نے کہاکہ پاک فوج، عدلیہ، ریاست پاکستان کے خلاف مہم کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس پر زیرو ٹالرینس ہے۔

مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران خان اپنی ناقص کارکردگی، کشمیر فروشی، مہنگائی، فارن پالیسی کو تباہ کرنے، پاکستان کے عوام کو بھوکا کرنے کا جواب دیں۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ مہنگائی کی شرح 3.9 فیصد سے 12 فیصد تک بڑھی، 2018ئ کے بعد 43 ہزار ارب قرضوں کا اضافہ ہوا ہے، اس کا حساب دیں۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دور میں دو کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے گئے، 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا۔انہوںنے کہاکہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ ہیں ،ادویات کو مہنگا کرنے میں جس جس نے کردار ادا کیا ہے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ 2018 سے 2022تک امپورٹڈ حکومت تھی ،سب بھاگ رہے ہیں جلد شکنجے میں آئیں گے ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ اختر جان مینگل جلد وفاقی کابینہ میں آئیں گے ،بلاول بھٹو زرداری واپس آکر حلف اٹھائیں گے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ دوسرے کے مرحوم والدین کا حساب مانگنے والے اپنی زندگی کا حساب دیں ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ طارق فاطمی کو وزیراعظم زیادہ ذمہ داریاں دینے جارہے ہیں۔

ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ سابق خاتون اول اپنے نام کی درستگی کروائیں تو بہتر ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ کچھ فائلیں غائب ہیں ،تحقیقات کروا رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چار سال میں ہیلی کاپٹر اٹھانوے کروڑ روپے خرچ ہوا ،وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالی تک یہ رقم خرچ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار آئینی عدام اعتماد سے چور، نالائق اور جھوٹا وزیراعظم ہٹایا گیا، چینی کے اوپر ناجائز اخراجات کا استعمال کیا گیا جس سے چینی مہنگی ہوئی، آٹے کی سمگلنگ اور قلت ہونے کے بعد آٹا امپورٹ کیاگیا، عمران خان کی ہر سمری کے اوپر عوام کی لوٹ مار لکھی ہے،دوائیوں کو تحریک انصاف کا وزیر لوٹتا رہا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہباز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے تو ان کو نماز کیلئے کرسی نہیں دی جاتی تھی اور مانیٹرنگ شہزاد اکبر صاحب کرتے تھے، آج کرسی پر وہ شخص ہے جو بڑے دل کا مالک ہے ، عمران خان کو فول پروف سکیورٹی کے لیے شہباز شریف نے احکامات جاری کیے، شہزاد اکبر کے پاس غیرملکی شہریت ہے اور وہ بھاگ گئے ہیں، شہزاد اکبر کو واپس لانیکا طریقہ ہمیں آتا ہے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ اگر ثبوت نہ ہوتے تو فرح فرار نہ ہوتیں، عمران خان کی مشاورتی چیزوں کے حوالے سے معلوم نہیں، انفارمیشن ملی ہے کہ کچھ فائلیں غائب ہیں ان کی تفصیلات لی جائیں گی، تحریک انصاف کی حکومت نے میڈیا کی پریس گیلری میں جیمرز لگائے تھے۔
٭٭