جنرل ہسپتال 17

طب کی دنیا میں درست تشخیص کا زیادہ انحصار ریڈیالوجی کی جدید ٹیکنالوجی پر ہے: پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم

لاہور (ہد انجم سے)پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے طبی تشخیص کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریڈیالوجی کے جدید آلات مرض کی درست تشخیص میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور معالج کا مریض کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی پر ہی زیادہ انحصار ہوتا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ریڈیالوجی کے عالمی دن کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جدید میڈیکل سائنس اور ہیلتھ کیئر سسٹم میں ریڈیالوجی اور جدید تشخیصی ٹیکنالوجی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بیماری کی بروقت اور درست تشخیص کے بغیر بہترین علاج ممکن نہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے عزم کا اظہار کیا کہ امیر الدین میڈیکل کالج میں نوجوان ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو جدید ترین ریسرچ اور تربیت کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان میں تشخیص کا معیار مزید بلند ہو سکے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بتایا کہ جنرل ہسپتال شعبہ ریڈیالوجی میں روزانہ تقریباً 300 سی ٹی سکین، 500 الٹراساؤنڈ اور 70 کے قریب ایم آر آئی کیے جاتے ہیں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 24 گھنٹے سی ٹی سکین، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کی سہولت مکمل طور پر مفت دستیاب ہے جبکہ ایم آر آئی رات 12 بجے تک مہیا کی جاتی ہے تاکہ مریض نجی سیکٹر کے بھاری اخراجات سے بچ سکیں اور ہسپتال کے اندر ہی بروقت تشخیص سے مستفید ہو سکیں۔

ڈاکٹر فاطمہ آصف کا کہنا تھا کہ ایکسرے، الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور پی ای ٹی (PET)سکین جیسے جدید آلات نے امراض کی تشخیص میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جس سے امراضِ قلب، کینسر اور اعصابی بیماریوں کی ابتدائی مراحل میں تشخیص ممکن ہو کر لاکھوں زندگیاں بچائی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ جدید ریڈیالوجی غیر ضروری اور پیچیدہ آپریشنز سے بچاؤ بھی فراہم کرتی ہے علاج کے درست منصوبے کی تشکیل سے مریضوں کی جلد صحت یابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ان اقدامات کی بدولت ایل جی ایچ میں تشخیصی خدمات کا معیار ایک نئی بلندی پر پہنچ چکا ہے اور عوام کو بلا تاخیر معیاری سہولیات میسر آ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں