کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے امتحانی جوابی پرچوں اور دیگر امتحانی ریکارڈ کی واپسی سے متعلق درخواست کی سماعت پر سندھ پبلک سروس کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 اگست تک جواب طلب کر لیاہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے امتحانی جوابی پرچوں اور دیگر امتحانی ریکارڈ کی واپسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران سندھ پبلک سروس کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے قبل ازیں ایس پی ایس سی کے امتحانی نتائج معطل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، جبکہ سکھر آئی بی اے کے وائس چانسلر کو درخواست گزاروں کی جوابی کاپیوں کی ایک ماہ کے اندر ازسرِنو جانچ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں امتحان سے متعلق تمام ریکارڈ اور میٹریل اس وقت سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کی تحویل میں موجود ہے، تاہم بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کے عبوری احکامات معطل کر دیے ہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ امتحانی مواد ناظر کی تحویل میں رہنے کے باعث سندھ پبلک سروس کمیشن کے انتظامی اور امتحانی امور متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے تمام امتحانی میٹریل کمیشن کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ادارہ اپنی معمول کی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر 5 اگست تک تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔







