اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کوئی معمولی طبی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک قومی ایمرجنسی کی حیثیت رکھتا ہے،پاکستان پر اس بیماری کا سب سے زیادہ بوجھ ہے، جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، ملک میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ دس ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں اور ان اعداد و شمار کو معمول سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،جدید ادویات کے ذریعے ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے ،95 فیصد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید ادویات کے ذریعے ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے اور 95 فیصد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کا قومی پروگرام محض ایک اعلان نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی بروقت نشاندہی، مفت اسکریننگ، مفت تشخیصی ٹیسٹ اور مفت علاج کی فراہمی کیلئے حکومتِ پاکستان کا ایک قومی عزم ہے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام مرحلہ وار ملک بھر میں توسیع پائے گا اور 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں براہِ راست اس پروگرام پر عملدرآمد کر رہی ہے جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس کے دائرہ کار کو پورے ملک تک وسعت دی جا رہی ہے، اب ضرورت صرف اجتماعی اور عملی اقدامات کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم کے تعاون سے پاکستان کو 2030 تک ہیپاٹائٹس سے پاک ملک بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کوئی لاعلاج بیماری نہیں اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو جدید ادویات کے ذریعے اس کا مکمل علاج ممکن ہے تاہم اگر مریض بروقت ٹیسٹ نہ کروائے اور بیماری کی تشخیص نہ ہو، تو یہ جگر کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے لیور سرروسس اور بعد ازاں لیور کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی قیادت میں، اور پروفیسر سعید اختر کی سربراہی میں، قومی سطح پر ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پروگرام پر کام جاری تھاجس میں وزارتِ صحت نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اس مقصد کے لیے مصر کے کامیاب ماڈل کو اختیار کیا ہے، جہاں چند برسوں میں پوری آبادی کی اسکریننگ کرکے ہیپاٹائٹس سی کے پھیلا پر موثر قابو پایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بھی اسی ماڈل کو مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے، اس پروگرام کا پہلا مرحلہ اسلام آباد سے شروع ہو چکا ہے، جس میں وفاق اور صوبے مل کر کام کر رہے ہیں،ہمارا ہدف ملک بھر کی آبادی کی اسکریننگ کرنا ہے تاکہ ہر متاثرہ شخص کی بروقت تشخیص اور علاج یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ جن افراد میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، حکومت انہیں تین ماہ کا مکمل علاج مفت فراہم کرے گی، جس کی لاگت تقریباً 34ہزار روپے ہے۔ اگر کسی مریض کو علاج کے دوسرے مرحلے کی ضرورت پیش آئی تو وہ بھی حکومت بلا معاوضہ فراہم کریگی، اس کے علاوہ اسکریننگ کے تمام اخراجات بھی حکومت برداشت کر رہی ہے،شہریوں سے صرف یہ اپیل ہے کہ وہ مقررہ مراکز پر جا کر رضاکارانہ طور پر اپنا ٹیسٹ کرائیں، جس پر انہیں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ ہمارا وژن صرف بیماریوں کا علاج کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے،جدید صحت کا نظام اسی اصول پر قائم ہے کہ بیماری کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی روک تھام کی جائے۔
اسی سوچ کے تحت وزارتِ صحت ماں اور بچے کی صحت، بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن، خاندانی منصوبہ بندی، صاف پانی، غذائیت، ماحولیات اور بنیادی صحت کی سہولیات سمیت پورے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرہ صرف ہسپتالوں سے نہیں بنتا بلکہ صحت مند گھر، صاف ماحول، معیاری بنیادی صحت کی سہولیات اور موثر احتیاطی نظام مل کر ایک صحت مند قوم تشکیل دیتے ہیں، اگر ہم نے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ نہ دی تو ہسپتالوں پر بوجھ کبھی کم نہیں ہوگا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی قابلِ تدارک بیماریوں کے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ ہر سال گیارہ ہزارمائیں حمل اور زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں جن سے بروقت طبی سہولیات اور موثر احتیاطی اقدامات کے ذریعے بچا جا سکتا ہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے ہم علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام کو قومی ترجیح بنائیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت، ماں اور بچے کی کمزور صحت، ہیپاٹائٹس، ذیابیطس، دل کے امراض اور ذہنی صحت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،ہر سال لاکھوں بچے قابلِ تدارک وجوہات کی بنا پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں بچے غذائی کمی کے باعث جسمانی اور ذہنی نشوونما سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے یہ مسائل صرف طبی نہیں بلکہ قومی معیشت اور ترقی کا بھی بڑا مسئلہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال نے جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانوں، مویشیوں اور پولٹری میں اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہوگاجبکہ صحت کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی بھی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کی مفت اسکریننگ سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوںنے اعلان کیا کہ حکومت قانون سازی کر رہی ہے جس کے تحت ہر ایسے مریض کے لیے، جس کا آپریشن یا کوئی ایسا طبی عمل ہو جس میں جلد کو چھیڑا جائے، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر ضروری ٹیسٹ لازمی ہوں گے،مستقبل میں ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اسکریننگ کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔









