کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں گلشن روفی/پرائیڈ بلڈر اسکیم 33 کے 650 سے زائد متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے گزشتہ حکم نامے پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے متاثرین کے حق حلال اور خون پسینے کی کمائی لیے ہوئے ہیں، مگر انہیں اب تک پلاٹ فراہم نہیں کیے جا رہے، آپ سب کو جیل میں ہونا چاہیے۔عدالت نے حکم دیا کہ متاثرین اور بلڈرز کو نیب دفتر بلا کر روزانہ کی بنیاد پر پلاٹوں کی لیز دینے کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ متاثرین سے کسی بھی قسم کی اضافی رقم وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
دوران سماعت کمرہ عدالت میں متاثرین نے انصاف کے لیے دہائیاں دیں۔ عدالت نے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر نیب کے تفتیشی افسر کو 22 جون کو پیش رفت رپورٹ سمیت طلب کرلیا۔درخواست گزار کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے مقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود 800 سے زائد متاثرین کو پلاٹ فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ او ڈی سی چارجز کی مد میں بلڈر نے کروڑوں روپے کا فراڈ کیا جبکہ نہ تو ترقیاتی کام کرایا گیا اور نہ ہی متاثرین کو قانونی لیز دی گئی۔وکیل کے مطابق الاٹیز نے گلشن روفی اسکیم 33 کے سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 سی اور 6 بی میں پلاٹس بک کرائے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے 2020 میں بلڈر کو متاثرین کو پلاٹ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ نیب کو بھی معاونت کا پابند بنایا گیا تھا، مگر تاحال فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔وکیل درخواست گزار نے مزید بتایا کہ سیکٹر 21 بی میں 100 سے زائد متاثرین کو فلاحی پلاٹس، اسکول، کالجز اور پلے گرانڈ کی اراضی پر لیز جاری کی گئی، جو ایک بڑا فراڈ ہے۔کیس میں نامزد بلڈرز میں رحمت الہی، سابق سینیٹر قاسم لاسی اور منظور روفی شامل ہیں۔









