بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال اکتوبر میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کے بنیادی ایجنڈے میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی جانب سے مرکزی کمیٹی کو اپنے کام کی رپورٹ پیش کرنا اور مسلسل جامع طور پر مضبوط پارٹی گورننس کے فروغ سے متعلق اہم امور پر غور ، شامل ہیں۔
اجلاس میں موجودہ اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سال کی دوسری ششماہی کے لیے اقتصادی امور کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اجلاس کی صدارت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ رواں سال کے آغاز سے شی جن پھنگ کی قیادت میں سی پی سی مرکزی کمیٹی نے پوری پارٹی، ملک کی تمام قومیتوں کے عوام کو متحد کرتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اندرونی مشکلات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ چین کی معیشت میں نئی محرک قوتوں کے فروغ، صنعتی ڈھانچے کی بہتری اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے رجحانات نمایاں ہوئے ہیں۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ سال کی دوسری ششماہی میں اقتصادی امور کو بہتر انداز میں انجام دینے کے لیے نئے ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر کو تیز کیا جائے، اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کیا جائے، اندرونی طلب کو وسعت دی جائے، رسد کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور معیشت کو مسلسل نئی، بہتر اور مضبوط ترقی کی جانب لے جایا جائے، تاکہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں جدید صنعتی نظام کی تعمیر کو تیز کرنے، “مصنوعی ذہانت پلس” اقدام پر گہرائی سے عمل درآمد کرنے اور مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ جدید ترین ٹیکنالوجی میں کامیابیاں حاصل کرنے، مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے، نئی ابھرتی ہوئی اہم صنعتیں تشکیل دینے اور روایتی صنعتوں کی جدید کاری کو مسلسل آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں منصفانہ اور منظم مسابقتی ماحول تشکیل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات کو مزید گہرا کیا جائے، نجی معیشت کی ترقی کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جائے اور پلیٹ فارم معیشت کی منظم اور صحت مند ترقی کو فروغ دیا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی تعاون کے لیے باہمی مفاد کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں، خدماتی تجارت کو بھرپور انداز میں فروغ دیا جائے اور تجارت میں توازن کو بہتر بنایا جائے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کو مزید مستحکم اور وسعت دی جائے، اعلیٰ معیار کی زرعی کھیتوں کی تعمیر کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور کسانوں کی آمدنی میں مستحکم اضافے کو فروغ دیا جائے۔اجلاس نے عوامی فلاح و بہبود کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے، مختلف اقدامات کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھانے، اہم گروہوں کے روزگار کے لیے معاونت میں اضافہ کرنے اور لچکدار روزگار سے وابستہ افراد اور روزگار کی نئی شکلوں میں کام کرنے والے افراد کے حقوق و مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا۔







