طاہر محمود اشرفی 13

کسی کو مسلح گروہ بنانے کی اجازت نہیں ،سیکورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں ، طاہر محمود اشرفی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)چئیرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کسی کو مسلح گروہ یا جتھے بنانے کی اجازت نہیں ،سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں ،علما امت کو جوڑنے کی بات کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز یہاں ٹاون ہال لاہور میں محرم الحرام کے حوالے سے منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج کا فورم آزاد کشمیر حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرتا کہ کسی کو فساد کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے ،خواہ اس کے مطالبات اس کے نزدیک کتنے بھی جائز کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج ،فتنہ الہند اور ان حملہ آوروں میں کوئی فرق نہیں ،تمام مطالبات درست بھی ہوں تو قانون کے مطابق اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پرامن احتجاج ہے تو قانون نافذ کرنے والوں پر حملے کیوں کیے گئے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج کی اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد پاکستان میں خود کو اور عوام کوضابطہ اخلاق پر عملدرآمد بارے یاد کروانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات قومی اور دینی جرم ہے لہذا تمام علما شدت پسندانہ سوچ کو مسترد کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام اور اس کے بعد بھی انبیا کرام، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی حرمت کا خیال رکھنا ہو گا ،کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کوکافر قرار دے۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں تمام غیرمسلموں کو آئین و قانون کے مطابق آزادی حاصل ہے ،محرم اور صفر میں مجالس اور کانفرنسوں کے انعقاد کی اجازت ہے جبکہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد سب کا فرض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ، محرم الحرام کے دوران عوام کو الرٹ رہنا ہے اور پولیس و انتظامیہ کے ساتھ مکمل کوآرڈینیشن ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جو خطیب، ذاکراور مفتی امت کو توڑنے کی بات کرے ہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے،سب کو اپنے انداز بیان میں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ توہین کسی کی نہ ہو ۔

انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای شہید نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے ، لہذا ہمیں عقیدت کے ساتھ ان کے اس فتوی کو ماننا چاہئیے ۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سوشل میڈیا، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر کسی قسم کی فرقہ وارانہ مواد کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے ،یہ ضابطہ اخلاق ہر سال جاری ہوتا ہے۔ آج اس سال بھی ہم لاہور سے اس کا آغاز کر رہے ہیں۔چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ قومی امن کمیٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے ،مسلح فرقہ واریت کے فروغ کی تمام علما کرام مخالفت کرتے ہیں،تمام مکاتب فکر کے علما کرام امت کو جوڑنے کی بات کریں ۔

حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سب کے ہیں اوان کی تعلیمات پر بھی ہم سب کو عمل پیرا ہونا چاہیے ۔کانفرنس سے ڈاکٹر محمد انتخاب نو ری،مولانا اسلم صدیقی ،مولانا اسعد عبید ،مولانا رائے ظفر سمیت دیگر علما ومشائخ نے خطاب کیا،اورملک میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضا قائم رکھنے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔اس موقع پر دیگر شرکا کی بھی کثیر تعداد موجود تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں