مفتاح اسماعیل 17

پیٹرول کی قیمت میں 220 روپے کے بعد باقی رقم ٹیکسز اور کمپنیوں کے منافع پر مشتمل ہے، مفتاح اسماعیل

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)عوام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ کراچی بندرگاہ پر درآمدی ڈیوٹی سمیت پیٹرول کی قیمت تقریباً 220 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ اس کے بعد وصول کی جانے والی رقم میں مختلف ٹیکسز اور آئل کمپنیوں کے منافع شامل ہوتے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت آئل کمپنیوں کے منافع کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی اور ہمیشہ ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی بات کی جائے تو فوری طور پر آئی ایم ایف کا معاملہ سامنے آ جاتا ہے، حالانکہ ملک میں پیٹرول استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد موٹر سائیکل سواروں پر مشتمل ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ تقریباً 60 فیصد پیٹرول موٹر سائیکل سوار استعمال کرتے ہیں، لیکن ان سے تقریباً 120 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ڈی ریگولیشن کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو یہ نظام متعارف کرانا تھا تو یہ فیصلہ ایک یا دو ہفتوں کے بجائے فوری طور پر بھی کیا جا سکتا تھا۔ ان کے بقول موجودہ تبدیلی سے عملی طور پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑا، صرف قیمتوں پر نظرثانی کا دورانیہ تبدیل ہوا ہے۔انہوں نے حکومت کی مالیاتی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کفایت شعاری کے دعوے کیے گئے، جبکہ دوسری جانب گزشتہ سال حکومتی اخراجات مقررہ بجٹ سے 50 ارب روپے زیادہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں