لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنمائوں میں شامل اکبر ایس بابر نے دعوی کیا ہے کہ اگر پارٹی نے اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو خدشہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل اس پر پابندی لگ جائے گی،پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات میں شواہد سامنے آ چکے ہیں اور اگر ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو پارٹی پر پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے۔
ایک انٹر ویو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قیام کا مقصد ایک نظریاتی، جمہوری اور آئین کے مطابق چلنے والی سیاسی جماعت کی تشکیل تھا جہاں اندرونی جمہوریت کو فروغ دیا جاتا مگر آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔پارٹی آئین میں بانی چیئرمین کے لیے نہ کوئی آئینی کردار موجود ہے اور نہ ہی کوئی خصوصی اختیار جبکہ آئین کے تحت کوئی بھی چیئرمین دو مرتبہ سے زیادہ انتخاب نہیں لڑ سکتا، تاہم ان اصولوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں انہوں نے آٹھ برس تک مسلسل قانونی جنگ لڑی، جبکہ اس دوران پی ٹی آئی نے اپنے نو وکلا تبدیل کیے۔
اس کے برعکس انہوں نے پورا مقدمہ ایک ہی وکیل اور ایک ہی آڈیٹر کے ساتھ لڑا۔عدالتی فیصلوں میں پارٹی کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اور اگر ایسا فیصلہ کسی یورپی ملک میں آتا تو اب تک پوری پارٹی قیادت سزا یافتہ قرار دی جا چکی ہوتی۔اکبر ایس بابر نے عمران خان کی بہنوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات سے گزر رہی ہیں اور ان کے جذبات قابل فہم ہیں تاہم پارٹی یا سیاست میں ان کا کوئی آئینی کردار نہیں۔ انہوں نے مودی کے حق میں دیے گئے مبینہ بیانات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد حب الوطنی پر رکھی گئی تھی اس لیے پاکستان کے ازلی دشمن کے حق میں کسی بھی قسم کا بیان ناقابل قبول ہے۔









