لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب میں غریب کے لئے الگ اور بااثر افراد کیلئے الگ قانون ہے۔یہاں جرائم کا اندراج چہرے دیکھ کر کیا جاتا ہے،پولیس والا کرتا ہے تو قانون ناڑے کیساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور غریب جرم کرے تو اسکے نیفے میں پستول چلا دیا جاتا ہے، پنجاب میں خواتین حکمران اپنی صنف کی حفاظت نہیں کرسکتیں تو دوسروں کا کیا ہو گا،دیکھئے گا تھوڑی دیر بعد الحمراء سے ٹیپ چلنا شروع ہو جائے گی،ہمیں یہ پٹی نہ پڑھائی جائے کہ یہ ہارے ہوئے لوگ ہیں،ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ اسے جزیہ سمجھا جائے۔
وہ پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پارٹی رہنمائوں عثمان ملک، احمد جواد رانا،میاں ایوب ،بشری منظور مانیکا اورملک عمران کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ غازی آباد کے نکے تھانیدار نے معزور بچی کو حبس بیجا میں رکھ کر زیادتی کا نشانہ بنایا،یہ دور دراز علاقہ میں نہیں بلکہ لاہور کے مرکز میں ہوا ہے اور ورثاء کی شکایت درج کرنے کی بجائے انہیں بھگا دیا گیا۔ پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ خواتین ہماری ریڈ لائن ہیں،اگر ایسے مقدمات پر حکومت ایکشن لیتی ہے تو عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی لاہور میں تھانہ ٹائون شپ میں دو خواتین کو چوری فراڈ میں گرفتار کیا گیا۔مرنے والی خواتین کی بہن نے الزام لگایا ہے کہ ان پر تھانے میں تشدد کیا گیا،پولیس ان پر دبائو ڈال رہی ہے کہ متوفیان نشہ کرتی تھیں،یہ سارے جرائم لاہور میں ہیں جو ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں آتا ہے۔یہ حالت ہے کہ تھانوں کے اندر خواتین کیساتھ یہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیم(ساحل) کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026ء تک پنجاب میں 3172مقدمات درج ہوئے جس میں خواتین سے متعلق 74فیصد مقدمات ہیں،پورے پنجاب میں کل سوا چار لاکھ میں سے 20114 مقدمات صرف خواتین سے متعلق ہیں جبکہ ایس ایس ڈی او رپورٹ 2025ء کے مطابق روزانہ 85خواتین کو تشدد برداشت کرنا پڑا، ایسے واقعات کا ٹرائل ایسے ہو گا تو بعد میں اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔
حسن مرتضیٰ نے سوال کیا کہ معذور بچی سے زیادتی کرنے والے تھانیدار کے منہ پر بوری چڑھا کر کیوں پیش نہیں کیا جا رہا؟،آج کیوں حکومتی ایوانوں میں کھلبلی نہیں ۔اس لیے کہ وہ غریب تھی،اس کیس میں جوڈیشل انکوائری کا کیا بنتا ہے؟کیا 1100ایکسٹرا جوڈیشل کلنگز کی جوڈیشل انکوائری کرائی گئی؟۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس صوبے کی بات کرر ہے ہیں جسکی ترقی اور خوشحالی کی بات کی جاتی ہے۔آپ لین لائن کی پابندی کراتے ہیں مگر 6ماہ کی رپورٹ میں روزانہ 85خواتین پر تشدد لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کا ہونا الگ اور اتحادی ہونا الگ چیز ہے،78پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا مگر پھر بحال ہو جاتے ہیں،کوئی مثال دیدیں کہ معطل بحال نہیں ہوا اور اسی تھانے میں نہیں لگا۔داتا دربار سانحے میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے مگر ایک کلرک تک کو سزا نہیں دی گئی،وہ جو ہنگامی عدالت ایئر پورٹ پر لگی تھی،چوتھے دن معاملہ پیسے ٹھیکیدار پر ڈال کر ٹھپ کر دیا گیا۔
میڈیا کے سوالوں کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم (ن) لیگ کے اتحادی سسٹم ڈی ریل ہونے سے بچانے کے لئے ہیں، ضیاء ہو یا مشرف،قربانیاں پیپلز پارٹی،میڈیا اور وکلاء دیتے ہیں،یہاں حکومت کی باری آتی ہے تو وہ پاکستان ،ورنہ جدہ چلے جاتے ہیں،اب جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو ہمارے باقی ماندہ کارکن قربانی دیں گے۔یہاں ہر آدمی کو اسکے گھر پر انصاف دینے کا دعوی کیا جاتا ہے۔حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ کولییپس سسٹم ہوا ہے اور نئے صوبے بنا دو۔حل نہیں،ناراضگی والی کوئی بات نہیں جہاں اتفاق ہے وہاں صوبے بنا دینے چاہئیں جہاں نہیں وہاں اتفاق پیداکر لیں،ایک وزیر اعلی،چیف سیکرٹری کا بوجھ نہیں اٹھایا جاتا ،18کا کیسے اٹھائیں گے؟۔
انہوں نے آزاد کشمیر میں تیسرے مرحلے کے انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے کشمیر کے ایل اے پندرہ اور سولہ میں اب تک 9شکایات جمع کرا دی ہیں،دیکھتے ہیں کہ الیکشن کمشن یا انکے ترجمانوں پر اس کا اثر ہوتا ہے یا نہیں ۔پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی الٹی گنتی کی آوازیں انکی وفاقی کابینہ سے اٹھ رہی ہیں،ہمیں جس اتحاد کا طعنہ دیا جاتا ہے،پتہ نہیں رہتا ہے یا نہیں۔
اللہ کرے رہے،پیپلز پارٹی کا مزاج الٹی گنتی والا نہیں۔انکے اندر انتشار ہے،وہ ایک پیج پر نہیں،چچا بھتیجی کی لڑائی بہت زیادہ ہے۔حسن مرتضی نے مطالبہ کیا کہ پورے پنجاب میں جاری لاک ڈائون سے کاروباری برادری پریشان ہے حکومت نظر ثانی کرے۔پریس کافرنس سے خطاب کرتے ہوئے فنا نس سیکرٹری رانا جواد نے کہا کہ صوبوں کی بحث نہیں پنجاب کی گورننس اصل چیز ہے،اصل ایشو نئے صوبے نہیں،گورننس ہے، پنجاب حکومت کے قوانین بیروزگاری میں اضافے کی وجہ ہیں۔








