نیب قانون 166

نیب قانون میں جرم کی تعریف تبدیل ہوگئی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)مجوزہ نیب قانون میں جرم کی تعریف تبدیل ہوگئی ہے، وہ جرم اور کرپشن نیب کے دائرہ کار میں آئیں گے جو 50کروڑ سے زیادہ ہوں گے، نجی ٹی وی کے مطابق حکومت کی جانب سے نیب قانون میں متعدد ترامیم کے نفاذ کے بعد صدر مملکت احتساب عدالت کے ججز تعینات نہیں کر سکیں گے، صدر مملکت سے ججز کی تعیناتی کا اختیار ختم کر کے وفاقی حکومت کو دے دیا گیا،نیب قانون میں ترامیم کابینہ سے منظوری کے بعد اب منظوری کے لیے صدر کے پاس بجھوائے جائیں گے،

صدر کے دستخط نہ کرنے کی صورت میں اگلے ہفتے جوائنٹ سیشن بلایا جائے گا،مجوزہ ترامیم کے مطابق اب اگر کوئی مجرم کسی جرم کا مرتکب پایا جائے، تو اس پر اب کوئی مالی جرمانہ نہیں ہوگا، اس سے قبل کسی کو جتنی کرپشن کا مرتکب پایا جاتا، تو کم از کم اتنا جرمانہ ادا کرنا ضروری تھا،کوئی شخص جس علاقے کی عدالتی حدود میں ملزم پایا جائے، اسے اسی صوبے کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اس ترمیم کا بڑا فائدہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ہوگا، اس کی باقاعدہ منظوری کے بعد آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، مراد علی شاہ اور درجنوں دیگر افسران کے کیسز سندھ منتقل ہو جائیں گے،اب نیب کسی جرم سے متعلقہ شخص کو ہی طلب کر سکے گا، اس سے پہلے نیب کسی بھی شخص کو کسی بھی کیس سے متعلق طلب کر سکتا تھا،کسی ایک شخص کی پلی بارگین سے اس کیس کے دوسرے افراد پر اثر نہیں پڑے گا،

اب چیئرمین نیب کو ریفرنس فائل کرنے سے پہلے تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مشاورت کے بعد کسی بھی کیس کو جزوی یا کلی طور پر ختم کرنے کا اختیار ہوگا،اس دوران اگر کسی عدالت میں کیس چل رہا ہے تو اسی طریقے سے وہ اس کیس کو ختم کرنے کا بھی کہہ سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں