حلیم عادل شیخ 49

سندھ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ،عوام ریلیف سے محروم ہیں ،حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی میں بڑھتی ہوئی بدامنی، وزیراعلی ہاؤس کے بھاری اخراجات اور کے ڈی اے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کراچی میں ڈاکٹر سارنگ میمن کے اپنی اہلیہ کے سامنے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ شہر میں امن و امان کی تباہ حال صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرعام فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں جبکہ شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر سارنگ میمن کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں قانون کی عملداری کہیں نظر نہیں آ رہی اور جرائم پیشہ عناصر بے لگام ہو چکے ہیں، جو حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

دوسری جانب حلیم عادل شیخ نے وزیراعلی ہاؤس سندھ کے مالی سال 2025-26 کے اخراجات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ارب 34 کروڑ روپے کا بھاری بجٹ عوام دشمن اور اشرافیہ نواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی اور غربت کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب حکمرانوں کے لیے اربوں روپے کے شاہانہ اخراجات رکھے گئے ہیں، جو قابل مذمت ہیں۔انہوں نے کہا کہ 923 ملین روپے تنخواہوں، کروڑوں روپے الانسز، 60 ملین پیٹرول، 79 ملین گاڑیوں، 90 ملین گفٹس اور 25 ملین کھانے پر خرچ کرنا عوامی خزانے پر بوجھ اور کھلی فضول خرچی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 500 ملازمین کی بھرمار اور جدید دور میں بھی ٹیلی گراف اور ٹرنک کال جیسے فرسودہ نظام پر بجٹ رکھنا حکومتی نااہلی کی عکاسی کرتا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں تعلیم، صحت اور روزگار کو نظر انداز کر کے وزیراعلی ہاس کی مراعات میں اضافہ ظلم کے مترادف ہے اور یہ اخراجات دراصل عوامی وسائل کی بندر بانٹ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے سے پہلے حکمران اپنے اخراجات کم کریں۔کے ڈی اے میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر ردعمل دیتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ سندھ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے جس میں 1388 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر خاموشی مجرمانہ ہے اور فوری طور پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ رفاہی پلاٹس پر قبضے کر کے شہر کے مستقبل کو دا پر لگایا گیا جبکہ ریٹائرڈ اور جعلی ملازمین کو نوازنا عوامی پیسے کی کھلی لوٹ مار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پارکوں و کھیل کے میدانوں کو واگزار کرا کے عوام کے حوالے کیا جائے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے سرکاری اداروں کو کرپشن کی آماجگاہ بنا دیا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں