فیصل کریم 18

میں مولانا کو کہتا ہوں کہ آپ کے بغیر کے پی حکومت بنی اور چلے گی بھی،فیصل کریم کنڈی

پشاور (رپورٹنگ آن لائن)گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا کہتے تھے کہ کوئی بھی حکومت ان کے بغیر نہ بنتی ہے نہ چلتی ہے، میں کہتا ہوں آپ کے بغیر کے پی حکومت بنی اور چلے گی بھی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی گزشتہ روز کی تقریر سے مجھے بہت مایوسی ہوئی، مولانا فضل الرحمن سینئر سیاستدان ہیں، ان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمن کے موقف سے اتفاق نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے۔گورنر خیبر پختون خوا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق صوبائی حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکی، مولانا نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ غلط ہے۔

انہوںنے کہاکہ خیبر پختون خوا حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کر رہی یہ کہنا درست نہیں، خیبر پختون خوا کی سابق حکومت کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کے بعض مفرور عناصر سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن بتائیں لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں کون سے پہاڑ اور معدنی وسائل موجود ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ معدنی وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے، غیرملکی کمپنیاں، پاکستانی کمپنیاں اور خیبرپختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہے، صوبے میں امن کے قیام کے معاملے پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا، باقی تمام معاملات پر بات کی جاتی ہے۔ دریں اثناء ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طبی برادری کو دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں لوگوں کو اب بھی ماہر ڈاکٹروں اور خصوصی طبی سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے علاوہ دوسرے اضلاع میں ماہر ڈاکٹرز ڈیوٹی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔گورنر کے پی نے کہا کہ اب ماہر ڈاکٹرز صرف پشاور میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں کام کریں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مشیرِ صحت خیبر پختون خوا کو پلان تیار کرنے کی ہدایت کروں گا تاکہ صوبے کے ہر ضلع میں ماہر ڈاکٹرز ڈیوٹی سر انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور جاب سیکیورٹی سمیت دیگر مسائل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، مجھے سب کی سپورٹ کی ضرورت ہے اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں