لاہور (رپورٹنگ آن لائن) اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ مقامی عدالت نے ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے گرفتاری سے روک دیا۔ پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں مدعی کے مطابق ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور ساتھیوں نے بلیک میلنگ کی اور دھمکیاں دیں۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے دھمکی دی کہ اگر شادی نہ کی گئی تو متعلقہ ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا، مومنہ اقبال کی بہن نے دھمکیوں سے متعلق ویڈیو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو فراہم کر دیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو اور موبائل کو ڈیجیٹل ثبوت کے طور پر تحویل میں لے کر معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ ثاقب چدھڑ کے نمبر سے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی۔بعدازاں سیشن کورٹ لاہور میں مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے 24جون تک ثاقب چڈھر کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نے عبوری ضمانت پر سماعت کی، ثاقب چڈھر کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق پیش ہوئے۔









