بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چائنا انٹرپرائز ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ ریسرچ ایسوسی ایشن نے “2026 انرجی انڈسٹری ایکو سسٹم رپورٹ” جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی تنصیب پہلی بار تاریخی طور پر تھرمل پاور سے تجاوز کر گئی، جبکہ نیوکلیئر اور بائیو ماس انرجی کے شعبوں میں بھی چین عالمی سطح پر نمایاں مقام پر پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی انرجی انڈسٹری نے توانائی کی محفوظ فراہمی اور ماحول دوست، کم کاربن ترقی کے اہداف کو بیک وقت آگے بڑھایا۔ 2020 سے 2025 کے درمیان ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت530 ملین کلوواٹ سے بڑھ کر 1.84 بلین کلوواٹ ہو گئی ۔ اسی عرصے میں جوہری توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ بائیو ماس پاور جنریشن کی صلاحیت مسلسل ساتویں سال بھی عالمی سطح پر سرفہرست رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں چین کا توانائی کا شعبہ مصنوعی ذہانت اور توانائی کے باہمی انضمام کو بھرپور انداز میں فروغ دے گا، تاکہ صاف، کم کاربن، محفوظ اور زیادہ مؤثر جدید توانائی کے نظام کی تعمیر کو ہر پہلو سے تقویت دی جا سکے۔









