لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پنجاب میں مون سون کی شدید بارشوں کے تسلسل سے دریائے راوی ، چناب ، ستلج کی سیلابی کیفیت اور بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے پانی نے ملک کے اندر ہر طرف تباہی مچا دی ہے ، سینکڑوں دیہات زیرآب آچکے ہیں ، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی تیار فصیلیںبرباد اور مویشی ہلاک ہو گئے ہیں،دو لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
حکومت کا روڈا پلان دریائے راوی کے سیلاب میں بہہ گیا ہے ،درجنوں چھوٹی بڑی رہائشی سوسائٹیز اس وقت زیر آب ہیں ۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پنجاب محمدجاوید قصوری نے پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دور ے کے دوران امدادی سرگرمیوں کا جائزہ اور کاموں کی رفتار کو بڑھانے کی ہدایات دیتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں اور سیالکوٹ، وزیر آباد، نارووال سمیت متعدد مقامات پر آبادی متاثر ہوئی ہے۔
سیالکوٹ کے 133 دیہات بھی متاثر ہوئے ہیں ، نارووال کے 40 چھوٹے بڑے گاؤں زیرِ آب ہیں۔دریا ئے راوی میں سیلابی صورتحال شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ اسی دریا نے فیصل آباد کے علاقے تاندلیاوالہ اور ضلع ساہیوال کو بھی متاثر کیا ہے۔ دریائے راوی میں 38 سال بعد اتنا پانی ریکارڑ کیا گیا ہے۔گجرات،سیالکوٹ او ر لاہور میں اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔پی ڈی ایم اے کی بر وقت اور نامناسب بندوبست کی وجہ سے حالات سنگین ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دکھ کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بد قسمتی سے سیلاب متاثرین کے ریلیف اور بر وقت امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومتوں کی کارکردگی نا قص رہی ہے۔
ادارے خواب خرگوش میں مصروف اور عوام پانی کی نذر ہوتے رہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکیں ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے نمٹنے کے لئے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ڈیمز نہ بننے کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے مالیت کا پانی سمندر برد ہو جاتا ہے ۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یکم اپریل سے اب تک ایک کروڑ 18لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو گیا ہے ۔جس کی کل مالیت 11ارب ڈالر بنتی ہے ۔ایک ملین ایکڑ فٹ کی اکنامک ویلیو ایک ارب ڈالر ہے ۔









