سعید غنی 15

سیسی کے تمام اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے تحت اسکریننگ کروائی جارہی ہے،سعید غنی

کراچی( رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا کہ سیسی کے زیر انتظام صوبے بھر کی تمام اسپتالوں میں محکمہ صحت کے سی ڈی سی کنٹرول برائے ایچ آئی وی کے تحت اسکریننگ کروائی جارہی ہے۔

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے لئے بنائی گئی انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات پر 37 ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور افسران کو فائنل شوکاز نوٹسز جاری کردئیے گئے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے تو ان کے خلاف محکمہ ذاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر کا بھی اندراج کروایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن کی مٹینگ کے دوران کیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر عامر علی الدین چشتی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال، ارکان سینیٹر مسرور احسن، سینیٹر انوشا رحمان، سینیٹر سمینہ ممتاز، سینیٹر ندیم احمد بھٹو سمیت دیگر بھی شامل تھے۔

جبکہ سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو و دیگر نے بھی شرکت کی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے اجلاس کو محکمہ محنت کے زیر انتظام سیسی کی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی اور بتایا کہ ولیکا اسپتال میں کیسز کے رپورٹ ہونے پر فوری طور پر محکمہ صحت کے کمیونیکیشن ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے تحت اسپتال اور اطراف کی آبادیوں میں اسکریننگ شروع کروائی اور اب تک 10500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی جس میں سے 120 میں ایچ آئی وی پوزیٹو آیا، جبکہ ان میں سے 81 بچے وہ ہیں جو سیسی کے رجسٹرڈ ملازمین کے بچے ہیں جبکہ باقی ماندہ 39 بچوں کا رجسٹرڈ ملازمین سے تعلق نہیں لیکن ہم نے ان تمام 120 بچوں کی زمہ داری اپنے اوپر کی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے بعد لانڈھی اسپتال جہاں کوئی ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا پھر بھی ہم نے اسپتال میں داخل مریضوں، اور پی ڈی میں آنے والے مریضوں کے ساتھ ساتھ اطراف کی آبادیوں میں اسکریننگ کا عمل شروع کروایا اور اب تک 7500 افراد کی اسکریننگ کروائی گئی،

جن میں سے 21 مثبت کیسز آئے ہیں جبکہ ان کی اسپتال میں کوئی سابقہ ہسٹری بھی نہیں ہے اور کچھ مریضوں کے ایچ آئی وی پوزیٹو آنے کے بیرونی اسباب بھی سامنے آئے ہیں۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے معزز سینیٹرز صاحبان کے مختلف سوالات کے جواب میں واضح طور پر موقف دیا کہ میں نے بحثیت وزیر اس کی نہ صرف اس کی ذمہ داری قبول کی ہے بلکہ ہم نے ان تمام متاثرین کے علاج معالجہ کے لئے پاکستان کے نامی گرامی ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں اور ان کا جدید سے جدید علاج معالجہ کروایا جارہا ہے.

جبکہ ان متاثرین کے اہلخانہ کی فلاح و بہبود کے لیے سیسی کے تحت 2 ارب روپے سے ایک اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کردیا گیا ہے اور اس فنڈ کی صاف و شفافیت کے لئے ایک آزاد اور خودمختار اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جن میں صوبے کے نامور لوگوں کو اس میں شامل کیا جارہا ہے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں اس معزز فورم پر تمام کو یقین دہانی بھی کرواتا ہوں کہ اس میں ملوث کسی کا گناہ میں اپنے سر پر کسی صورت نہیں لوں گا اور جو بھی اس جرم میں ملوث ہوا اس کو ایک رتی برابر بھی رعایت نہیں ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں