محمد جاوید قصوری 18

حکومت گنے کی قیمت 700 روپے مقرر ،کرشنگ 10نومبر تک شروع کرے ، جماعت اسلامی پنجاب

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاویدقصوری نے کہا ہے کہ گنے کے کاشتکار اس وقت شدید معاشی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں،ایک طرف کسانوں کی گنے کی فصل تیار کھڑی ہے، دوسری جانب شوگر ملز مالکان نے تاحال کرشنگ سیزن شروع نہیں کیا،گنے کی قیمت 700روپے فی من مقرر اور کرشنگ کا آغاز 10نومبر تک شروع کیا جائے ، گنے کی فصل جتنی لیٹ ہوگی گندم کی فصل بھی اتنی دیر سے لگائی جائے گی،

صوبائی حکومت نے کسان پیکیج کے نام پر کاشتکاروں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہے، اس سے ریلیف کھتیوں تک نہیں پہنچ پا رہا ، یوریا کی بوری 5000تک بلیک میں فروخت ہورہی ہے جبکہ ڈی اے پی گزشتہ سال کی نسبت 4ہزار روپے مہنگی فروخت کی جاری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر بابر رشید، ذکر اللہ مجاہد ، رشید منہالہ ، محمد فاروق چوہان اور عمران الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اگر پٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فوری مداخلت کرے اور شوگر ملز کو مقررہ وقت پر کرشنگ شروع کرنے کا پابند بنائے۔گنے کی فصل تیار ہونے کے باوجود کرشنگ میں تاخیر کسانوں کے لیے دوہرا نقصان بن رہی ہے۔ گنے کی کٹائی کے بعد کاشتکاروں نے گندم کی بوائی کرنی ہے، لیکن شوگر ملز کی جانب سے کرشنگ شروع نہ کرنے کے باعث گندم کی کاشت کا بروقت مرحلہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کسان پہلے ہی گنے کی فصل پر کھاد، بیج، ڈیزل، بجلی، زرعی ادویات اور آبپاشی کی مد میں بھاری اخراجات کر چکا ہے۔ گزشتہ سیزن میں بھی متعدد شوگر ملز نے کاشتکاروں کو گنے کی مکمل ادائیگیاں نہیں کیں، جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ گنے کی فی من قیمت 700 روپے مقرر کرنے کا کسانوں کا مطالبہ بالکل جائز ہے اور حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

دستیاب تخمینوں کے مطابق ملک میں تقریباً 11 لاکھ 90 ہزار ایکڑ رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی ہے اور مجموعی پیداوار 8 کروڑ 42 لاکھ ٹن کے قریب متوقع ہے۔ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے پہلے ہی زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایسے میں کسانوں کو ان کی فصل کی بروقت اور منصفانہ قیمت نہ ملنا ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں کپاس کی پیداوار مسلسل زوال کا شکار ہے۔ کپاس کے روایتی علاقوں، خصوصاً جنوبی پنجاب میں گنے کی غیر متوازن کاشت نے کپاس بیلٹ کا زرعی نظام تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

شوگر ملز مالکان کے مفادات کو ترجیح دینے کے باعث کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں کمی واقع ہوئی، جس سے نہ صرف کسان متاثر ہوئے بلکہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور برآمدات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے بااثر سیاسی خاندان شوگر ملز کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور آج تقریباً سب ہی اقتدار میں شریک ہیں۔ کپاس ملکی معیشت اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ حکومت فوری طور پر کپاس کی بحالی کے لیے مؤثر پالیسی بنائے، کاشتکاروں کو منافع بخش قیمت، معیاری بیج اور سہولیات فراہم کرے اور شوگر ملز کے بجائے قومی زرعی مفادات کو ترجیح دے۔ پنجاب میں تقریباً ایک کروڑ 62 لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی، مگر افسوس کہ گزشتہ سال آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت حکومت گندم کی سرکاری قیمت خرید مقرر کرنے سے گریزاں رہی، جس کا خمیازہ ملک بھر کے کاشتکاروں کو بھگتنا پڑا۔

گندم کی بروقت سرکاری خریداری نہ ہونے اور حکومتی پالیسی میں تاخیر نے کسانوں کو اپنی محنت کی فصل انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ پنجاب کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد حصہ مارکیٹ میں فروخت ہو چکا ہے، جبکہ حکومتی خریداری کا ہدف مجموعی پیداوار کے مقابلے میں انتہائی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے براہ راست خریداری کے بجائے دس نجی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کرکے شفافیت کا دعویٰ تو کیا ہے، لیکن عملی طور پر کسانوں کے تحفظات اور شکایات اس نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ کھاد، بیج، ڈیزل، بجلی اور زرعی ادویات کی بڑھتی قیمتوں نے پہلے ہی کاشتکار کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ایسے میں جب اسے اپنی فصل کی مناسب قیمت اور بروقت ادائیگی نہیں ملتی تو وہ مجبوری میں اونے پونے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

گزشتہ سیزن میں کسانوں سے گندم 3 ہزار روپے فی من سے بھی کم قیمت پر خریدی گئی، جبکہ اب گندم کے بیج کا 50 کلو کا تھیلا 9 ہزار روپے میں بھی دستیاب نہیں۔ یہ کیسا زرعی نظام ہے جہاں کسان کی پیداوار سستی اور صنعتکار کی تیار کردہ مصنوعات مہنگی ہیں؟ آٹا مہنگا ہے لیکن کسان کی گندم سستی، کھاد اور بیج مہنگے ہیں مگر فصلوں کی قیمتیں کسان کے اخراجات کے مطابق مقرر نہیں کی جاتیں۔ حکومت شوگر ملز کو فوری کرشنگ سیزن شروع کرنے، گزشتہ واجبات کی ادائیگی اور گنے کی منصفانہ قیمت یقینی بنانے کا پابند بنائے۔ ناجائز کٹوتیوں کا خاتمہ کیا جائے اور کسانوں کو ان کی فصل کی ادائیگی مقررہ مدت میں یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسان کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ نہ ملا تو زرعی معیشت، غذائی تحفظ اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، حکومت کو زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ فی ایکڑ کسان کارڈ کی رقم 30 ہزار سے بڑھا کر 33 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 3 ہزار 500 روپے کھاد کی سبسڈی دی گئی ہے۔ اگر یہ رقم واقعی سبسڈی ہے تو اسے کسان پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو خود برداشت کرنا چاہیے۔ کسان کو 30 ہزار روپے کے بجائے 33 ہزار 500 روپے کا بوجھ دینا ریلیف نہیں بلکہ قرض کے نام پر مالی ذمہ داری میں اضافہ ہے۔ حکومت عوام کو سبسڈی کے نام پر گمراہ کرنے کے بجائے حقیقی ریلیف فراہم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں