فواد چوہدری 18

پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے اور علیحدگی پسندوں کیلئے کام کرتا ہے، فواد چوہدری

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی نعمت بھی ہے اور عذاب بھی بن چکا ہے، ان کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے اور علیحدگی پسندوں کے لیے کام کرتا ہے،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر تین سے چار مختلف گروپ سر گرم ہیں،ایک گروپ ان لوگوں کا ہے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے ملک سے باہر چلے گئے جہاں وہ سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالتے ہیں،دوسرا گروپ ایسے افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے یوٹیوب پر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ، معیشت یا کاروباری ماحول بنا لیا ہے.

اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،فواد چوہدری نے کہاکہ سب سے زیادہ مسئلہ تیسرے گروپ کا ہے جو پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کرنے والی قوتوں اور علیحدگی پسندوں کے لیے سرگرم ہے، اس گروپ میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے عمران خان کی تصاویر لگا کر اور پی ٹی آئی کے نام سے پروفائل بنا کر پاکستان، فوج اور شہدا ء کے خلاف مہمات شروع کر رکھی ہیں۔ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ وہ اس حوالے سے متعدد ٹویٹس بھی کر چکے ہیں اور بار بار پی ٹی آئی کی قیادت کو متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر سے خود کو الگ کرے لیکن پارٹی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا رویہ کئی حوالوں سے متضاد ہے،

ایک طرف ان لوگوں کو پارٹی کی فیصلہ سازی میں اہم مقام دیا گیا جو ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے میں پیش پیش تھے، دوسری طرف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہمات چلائی جاتی ہیں،پی ٹی آئی کے بعض عہدیدار بھی ایسی مہمات کا حصہ بنے اور یوں وہ تیسرے گروپ کے ساتھ مل گئے، جس سے پارٹی کے بیانیے کو بہت نقصان پہنچا۔اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے باعث پارٹی کے سیاسی بیانیے کو نقصان پہنچا اور ملک کے اندر موجود کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں موجود ان لوگوں کو خود فارغ کردیا جو ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہوئے تھے،عمران خان نے پارٹی میں بزدار ماڈل نافذ کردیا اور ایسے افراد کو آگے لے آئے جن کا پارٹی سے کوئی دیرینہ تعلق نہیں تھا۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر اور دیگر اہم عہدوں کے لیے بھی اپنی قیادت کے بجائے ایسے لوگوں کو آگے کیا جنہیں پارٹی کے اندر سے نہیں لیا گیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ پاناما کیس میں نواز شریف کے وکیل تھے اور ان کے خلاف پیش کی گئی دستاویزات کے معاملے میں بھی ان کا کردار رہا۔علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل جیسے رہنمائوں کو بھی فیصلہ سازی میں اہم مقام دیا گیا حالانکہ ان میں سے بعض ماضی میں پی ٹی آئی اور اس کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے،ان رہنمائوں نے پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا لیکن اب پارٹی نے انہیں فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا ہے،پی ٹی آئی کی موجودہ اعلی قیادت میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا جماعت کے ساتھ ماضی میں کوئی تعلق نہیں رہا۔خیبرپختونخوا ہ میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے آپریشنز کی مخالفت سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے اور اس کے نفاذ کو سہیل آفریدی کے اقدامات کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر پی ٹی آئی دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو اسے فی الحال دوبارہ خیبرپختونخوا ہ کی حکومت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

گورنر راج کے بعد جو 11 افراد صوبے کے معاملات میں لگائے گئے ہیں ان کا بھی خیبرپختونخوا ہ سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اب بھی وقت ہے کہ حکومت آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور خیبرپختونخوا ہ کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے گوہر خان، شاہ محمود قریشی اور بشری بی بی پر مشتمل ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔فواد چوہدری نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورننس کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور اگر ان کا موازنہ عثمان بزدار سے کیا جائے تو وہ بہتر لگیں گے۔انہوںنے کہا کہ بعض حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے فیصلہ ہو سکتا ہے تاہم ابھی کسی کو اس کے خدوخال کا علم نہیں۔

اگر واقعی نئے صوبے بنانے میں سنجیدگی ہے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کو اس عمل میں شامل کرنا ضروری ہوگا۔پی ٹی آئی اور عمران خان کو شامل کیے بغیر نئے صوبے بنانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ معاملہ ان کے سیاسی منشور اور موقف کا بھی حصہ رہا ہے۔فواد چوہدری نے حال ہی میں ایک شادی میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ جنرل باجوہ نے کہاکہ اگر یہ لوگ آپ کی باتیں مان لیں تو حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں