لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہوشربا اضافہ، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور عوام کو درپیش سنگین مسائل کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی تحریک کا دوسرا مرحلہ 7 اگست کو ملک بھر میں بھرپور احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں شروع ہوگا، جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے میدان میں ہے اور عوام کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی،حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں نے ملک کے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات، شاہانہ پروٹوکول اور عیاشیوں میں مصروف ہے۔
وہ منصورہ میں 7 اگست کو ہونے والے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے ذمہ داران کے اجلاس کی قیادت کر رہے تھے۔ اجلاس میں احتجاجی تحریک کی تیاریوں، تنظیمی حکمت عملی اور عوامی رابطے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محمد جاوید قصوری نے ذمہ داران اور کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں فوری طور پر حکمت عملی مرتب کریں، کارکنان کو واضح ٹاسک دیے جائیں اور عوامی رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ 7 اگست کے احتجاج میں عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر ٹیکسوں، مہنگائی اور معاشی بوجھ کے نئے پہاڑ مسلط کر رہی ہیں۔
بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروریات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جبکہ لاکھوں نوجوان بے روزگاری کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔ ملک میں جاری بدامنی اور قانون کی حکمرانی کے فقدان نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے حل کے بجائے اقتدار اور مفادات کی سیاست میں مصروف ہیں۔ حکومت اور نام نہاد اپوزیشن کے درمیان مفادات کی سیاست نے عوام کو مایوس کر دیا ہے۔
عوام کو گمراہ کرنے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے حکمران طبقے کو اپنی پالیسیوں کا جواب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا مقصد کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنا ہے۔ کارکنان عوام کے ساتھ رابطہ بڑھائیں اور 7 اگست کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں۔ عوامی حقوق کی یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکمران عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کرتے۔









