مصطفی کمال 14

حکومت نے ملک کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی ہے، جو مقامی سطح پر ویکسین سازی کی راہ ہموار کریگی،مصطفی کمال

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی ہے، جو مقامی سطح پر ویکسین سازی کی راہ ہموار کرے گی،پاک چین بی ٹو بی فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے چھ اہم ذیلی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی، پاکستان میں ہر سال نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ،2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا،پاکستان اس وقت 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کو سو فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔

بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ انتہائی حساس ہے اور یہاں عام نہیں بلکہ تجربہ کار افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی 85 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، تاہم ان ادویات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد خام مال کی درآمد کی جاتی ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ وزارتِ صحت کی ٹیم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مثر میچ میکنگ کا عمل مکمل کیا جس کے نتیجے میں دو روزہ کانفرنس میں 240 وفود اور 140 چینی کمپنیوں نے شرکت کی جبکہ 340 دوطرفہ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ 800 ملین امریکی ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)پر بھی دستخط ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کمپنیوں کے ساتھ عملی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ رابطہ اور مشاورت جاری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت کا شعبہ ہمیشہ ترقی کرنے والا شعبہ ہے اور پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور 2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔مصطفی کمال نے اسلام آباد پولیس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفود کو ایئرپورٹ سے استقبال، رہائش اور دیگر انتظامات کی بہترین ذمہ داری نبھائی گئی جس پر دنیا نے پاکستان کے انتظامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں نو اہم معاہدوں پر دستخط کروائے گئے جبکہ ڈریپ کے نظام میں بڑی اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک میڈیکل ڈیوائس کی رجسٹریشن، جس میں پہلے ڈھائی سے تین سال لگتے تھے اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے تھے، اب مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کو سو فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں