مراد علی شاہ 17

حکومت سندھ انشورنس صنعت کی اہمیت اور ملکی معیشت میں اس کے کلیدی کردار سے بخوبی آگاہ ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ انشورنس صنعت کی اہمیت اور ملکی معیشت میں اس کے کلیدی کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس شعبے کی ترقی، استعداد کار میں اضافے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ پہلی انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایکچوریل اسٹڈیز میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی خوش آئند ہے اور حکومت اس شعبے میں تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ملک کی پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس متعارف کرائی، جس کے تحت ٹریفک حادثات میں جاں بحق یا مستقل معذور ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو 45 روز کے اندر انشورنس کلیمز کی ادائیگی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک صوبے میں دو لاکھ سے زائد گاڑیوں کو تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے فصلوں کی انشورنس کو سیلز ٹیکس سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ذریعے مختلف سماجی تحفظ پروگرام چلا رہی ہے، جن کے تحت حادثاتی موت کی صورت میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کو انشورنس کور فراہم کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے انشورنس شعبے میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، جبکہ ملک کو صرف معاشی استحکام تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سیلاب، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کے باعث انشورنس کے مضبوط نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں انشورنس کا دائرہ کار اب بھی محدود ہے اور عوامی آگاہی کی کمی اس شعبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔عدنان پاشا نے بتایا کہ حکومت مختلف اسکیموں کے ذریعے انشورنس کی سہولت عام شہری تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ سپارکو کے سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے زرعی قرضوں اور زرعی انشورنس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے رسک اسیسمنٹ، کلیمز کی فوری ادائیگی، فراڈ کی روک تھام اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیف ایگزیکٹو شعیب جاوید حسن نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ پوری انشورنس صنعت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں انشورنس کا تناسب صرف 0.9 فیصد ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں یہ شرح اوسطاً 4 فیصد ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے تجارت احسن افضل رانا نے کہا کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالیاتی اور انشورنس خدمات تک رسائی دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ انشورنس صنعت کے مسائل کے حل کے لیے ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ قانونی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرکے اس شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں