جاوید قصوری 40

”حق دو بلوچستان کو” لانگ مارچ کے مطالبات پر حکومت کیساتھ معاہدے کا خیر مقدم

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے ”حق دو بلوچستان کو” لانگ مارچ کے مطالبات پر وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے ڈیڑھ کروڑ عوام انتہا ئی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ہم سیاسی و جمہوری جدوجہدپر یقین رکھتے ہیںاورپرامن طریقے سے بلوچستان کے عوام کے مطالبات کا حل چاہتے ہیں،بلوچستان کئی دہائیوں سے شورش اور داخلی انتشار کا شکار ہے.

سیکورٹی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو درپیش اہم مسائل میں تعلیم، صحت ،ترقی کے مواقعے نا پید ہونا،دہشت گردی اور صاف پانی تک رسائی کا فقدان ہے۔ پاکستان میں سب سے کم شرح خواندگی بلوچستان میں ہے جہاں کی آبادی کا صرف 43 فیصد حصہ لکھ پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح، صوبے میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے، جہاں ہزار بچوں میں سے اوسطاً 66 بچے مر رہے ہیں۔

بلوچستان حکومت کو ملنے والے فنڈز وہاں کے عوام پر خرچ ہونے کی بجائے لوٹ مار کی نذر ہو جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش ایک اور بڑا مسئلہ معاشی مواقع کی کمی ہے۔ یہ صوبہ تیل، گیس اور معدنیات جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، پھر بھی یہ ملک کے غریب ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ خطے میں بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کی کمی کے نتیجے میں ملازمت کے مواقع محدود ہو گئے ہیں، جس سے بہت سے بلوچ نوجوان کام کی تلاش میں ملک کے دوسرے حصوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔

محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ،حکومت کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینی ہو گی تاکہ بلوچستان میں بسنے والوں کو بھی دیگر صوبوں جیسی زندگی میسر ہو ۔پاکستان کا مستقبل بلوچستان کی ترقی کے ساتھ جڑاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں