لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ آبی جارحیت کا بھوت مودی سرکار پر سوار، سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے بعد بھارت نے ستلج میں پانی چھوڑ دیا، جس سے متعدد بند ٹوٹ گئے اور کئی بستیاں زیرآب آئیں اور ان بستیوں کے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے،ستلج سے متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی شامل ہیں جو کہ اس وقت شدید متاثر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر دھان، تل اور چارہ جات کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے سے قصور، پاکپتن، بہاولنگر میں سیلابی صورت حال کا سامنا ہے۔ بارشوں سے مجموعی طور پر 699افراد جان بحق ،1080زخمی ، 7175گھروں کو نقصان ،5552مویشی ہلاک ہو چکے ہیں ، مون سون کا آٹھواں سپیل نے خیبر پختونخواہ میں تباہی مچا دی ہے ۔ شدید بارشوں سے دریا بھپر گئے ہیں۔لوگ بے یارو مددگار ہیں ۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ عوام کو درپیش مسائل دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ملک میں جو بھی بر سر اقتدار آیا ہے اس نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے ہی لوٹا ہے۔ان لوگوں سے خیر خواہی کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ موجودہ حکمرانوں کے پاس کوئی متبادل ایجنڈا نہیں ہے۔ ملکی حالات دن بدن ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے،جبکہ محض دکھاوے اور ڈنگ ٹپائو اقدامات کے سوا کچھ نہیں ہو رہا۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران اجلاس اجلاس کھیل کر قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔
سرکاری اداروں کی نجکاری کی خواہش رکھنے والے غریب عوام کو دو وقت کی روٹی اور روزگار سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکمران ادارے ٹھیک نہیں کرسکتے، اداروں سے کرپشن کا قلع قمع نہیں کرسکتے اور ان کو منافع بخش نہیں بناسکتے تو ان نا اہلوں سے ملک چلانے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ سودی معاشی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سودی نظام تمام مسائل کی بنیادی جڑ ہے، حکومت نے اس کے لئے روڈ میپ دے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتحال بڑھتی چلی جارہی ہے۔









