سعید غنی 16

ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کو مکمل علاج معالجہ کی سہولیات کے ساتھ والدین کو 80ہزار ماہانہ دیئے جائیں گے ،سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کو مکمل علاج معالجہ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے اکائونٹس میں 40 سے 80 ہزار روپے ماہانہ دئیے جائیں گے۔ ان متاثرین کی فلاح و بہبود کے لئے قائم اینڈومنٹ فنڈ کے استعمال کو شفاف بنانے لئے آزاد اور خودمختار بورڈ جبکہ ان کے علاج معالجہ کے لئے ملک کے اعلیٰ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔

ہم ان تمام متاثرہ بچوں اور ان کے اہلخانہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور جو بھی ذمہ داران اس میں ملوث قرار پائے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چئیر پرسن قاضی خزر کی قیادت میں آئے تین رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا ایچ آر سی پی کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں ایچ آر سی پی کے ریجنل کو آڈینیٹر علی اوسط اور ایمان احسن شامل تھی، اس موقع پر سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، فوکل پرسن ڈاکٹر سعادت میمن، ارکان گورننگ باڈی سیسی محمد خان ابڑو، زہرہ خان، عبدالواحد شورو، مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی، ناصر منصور و دیگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ایچ آر سی پی کے وفد کو سیسی کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایڈز کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بتایا کہ اس وقت تک ہمارے پاس 120 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کی رپورٹ موجود ہے، جن میں سے 81 بچے وہ ہیں جو سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ جبکہ 39 غیر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام 120 بچوں کو علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ فوری طور پر ان کی فلاح و بہبود کے لئے ماہانہ 40 سے 80 ہزار روپے ادا کررہے ہیں جبکہ ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے 2 ارب روپے کی لاگت سے سیسی کا ایک اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کردیا گیا ہے تاکہ اس سے ان بچوں کو صحت اور ان کی فلاح کے لئے اقدامات کئے جاسکیں۔

انہوں نے وفد کو بتایا کہ 22 اکتوبر 2025 کو جیسے ہی ویلکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے حوالے سے انہیں معلوم ہوا انہوں نے فوری طور پر سیسی کا اجلاس طلب کیا اور 29 اکتوبر 2025 کو ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ساتھ ہی 22 اکتوبر 2025 کو ہی سیسی کی انتظامیہ نے محکمہ صحت کے کمیونیکیشن آف ڈیزز کنٹرول ڈپارٹمنٹ کو ایک خط لکھ کر اسکریننگ کرنے کی درخواست کی اور اس ڈپارٹمنٹ نے فوری طور پر اسپتال میں داخل تمام مریضوں کی اسکریننگ شروع کردی۔ اس دوران انکوائری کمیٹی نے 6 نومبر 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں 16بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کی گئی تھی البتہ اس رپورٹ میں کسی ذمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا تھا، جس پر کمیٹی کو اس تمام کے ذمہ داران کے تعین کی ہدایات کی گئی، جس نے اپنی حتمی رپورٹ میں 10 افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

انہوں نے وفد کو۔ بتایا کہ اس دوران محتسب اعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی ہمیں اس مسئلے پر ایک دوسری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی، یہ کمیٹی ڈاکٹر نائلہ ظہیر کی سربراہی میں بنائی گئی، جس نے 19 جون 2026 کو اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں 37 افراد کو اس کا زمہ داران ٹھہرایا گیاہے اور ان تمام 37 زمہ داران کو شوکاز نوٹس جاری کردئیے گئے تھے اور اب ان تمام کو فائنل نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔ سعید غنی نے ایچ آئی سی پی کی جانب سے متاثرین کے لئے اب تک کئے جانے والے اقدامات پر بتایا کہ ایسے تمام متاثرہ بچوں کا آغا خان، انڈس سمیت تمام بڑے اسپتالوں میں جہاں پر ایچ آئی وی علاج کی جدید سہولیات دستیاب ہیں علاج کروایا جارہا ہے، ساتھ ہی فی کس بچے کے والدین کے اکائونٹس میں ماہانہ 40 ہزار روپے اور ایک سے زائد بچوں کے والدین میں 80 ہزار روپے ماہانہ دئیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہہ زیادہ تر کیسز اسکریننگ کے باعث سامنے آئے ہیں اور اب بھی اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام متاثرہ بچوں کے علاج معالجہ کے لئے اعلیٰ سطحی ماہر ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی بھی ہم تشکیل دے رہے ہیں، اسی طرح ان بچوں کی مستقل نگہداشت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے قائم اینڈومنٹ فنڈز کے لئے بھی ایک آزاد اور خودمختار اسٹینڈنگ کمیٹی قائم کی جارہی ہے، جو بلا تفریق ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے گی ساتھ ہی اینڈومنٹ فنڈ کی رقم کو اگر بڑھانے کی ضرورت ہوئی تو اس کو بھی اضافہ کیا جائے گا۔ اس موقع وزیر محنت نے وفد کو مزید تجاویز دینے کا بھی کہا۔ صوبائی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ اس سلسلے میں جو بھی اقدامات انہیں کرنے پڑیں وہ لازمی کریں گے اور ان متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں