حافظ نعیم الرحمن 18

امیر جماعت اسلامی نیانتخابی اصلاحات اور معاشی پالیسیوں پر جامع تجاویز پیش کردیں

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ملکی سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر قومی مکالمے، انتخابی اصلاحات اور معاشی پالیسی سے متعلق جامع تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک قومی ڈائیلاگ کی میز پر آنا ہوگا، کیونکہ نیشنل ڈائیلاگ کے ذریعے ہی نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے، بصورت دیگر معاشرے میں نفرت اور تقسیم مزید بڑھے گی۔

ویڈیو پیغام میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کے نظام کو چلانے والوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے، اس لیے وسیع تر قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور آئندہ عوامی مینڈیٹ کے احترام کو یقینی بنایا جائے تاکہ ووٹر آزادانہ طور پر اپنی پسند کے امیدوار یا جماعت کا انتخاب کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو یرغمال بنانے کا تاثر ختم ہونا چاہیے، ججوں کی تقرری مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور انتخابی نظام میں متناسب نمائندگی (پروپورشنل ریپریزنٹیشن) متعارف کرائی جائے تاکہ ووٹر شخصیات کے بجائے جماعتوں کے منشور کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی حقیقی جمہوریت کو فروغ دیا جانا چاہیے اور موروثی سیاست کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔امیر جماعت اسلامی نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے، مقررہ وقت پر انتخابات کرائے جائیں اور آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے مستقل اور واضح باب شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس یا صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے قومی کمیشن یا بڑے جرگے کا انعقاد ہونا چاہیے، جس میں تمام سیاسی جماعتیں اور متعلقہ فریق شریک ہوں۔معاشی امور پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ معدنیات اور قدرتی وسائل کے لیے جامع قومی پالیسی مرتب کی جائے، پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور صنعتوں کی بحالی کے لیے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اضافی بجلی ہونے کے باوجود عوام کو کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے، جس کے باعث بجلی مہنگی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں مؤثر پالیسی سازی اور شفاف اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سینٹرز کے فروغ کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جانے چاہییں۔

زرعی شعبے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے، کوآپریٹو فارمنگ کے فروغ اور کپاس و گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کھیلوں کے شعبے میں گراس روٹ سطح پر سرمایہ کاری، تمام اداروں کی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے اور مقابلے کے امتحانات اردو زبان میں منعقد کرانے کی بھی تجویز دی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں غریب، متوسط اور امیر طبقے کے لیے یکساں نظام قائم ہونا چاہیے اور قومی مسائل کا حل صرف باہمی مشاورت، آئین کی بالادستی اور قومی مکالمے میں مضمر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مسائل حل نہ کیے گئے تو معاشرے میں بے چینی اور نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں