لندن، نیویارک (رپورٹنگ آن لائن) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل 87 ڈالر سے اوپر چلا گیا جبکہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دنیا کی بڑی معیشتوں کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی، تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان میں مہنگائی کو تیز کر سکتا ہےاور روپے سمیت عوامی مالیات (پبلک فائنانسز) پر دباؤ کو مزید شدید کر سکتی ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر یا 3.68 فیصد اضافے کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ کئی ماہ میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 3.14 ڈالر یا 3.98 فیصد اچھال کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
مربان خام تیل 3.91 فیصد اضافے کے ساتھ 80.77 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 3.10 فیصد اضافے کے ساتھ 81.81 ڈالر پر پہنچ گیا، کیونکہ تاجروں نے تیزی سے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات کے پیشِ نظر قیمتوں میں اضافہ کیا۔
قیمتوں میں تیزی کا یہ رجحان پورے انرجی کمپلیکس (توانائی کی مارکیٹ) میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد اور ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس میں 3.41 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح امریکی نیچرل گیس کی قیمتوں میں 1.01 فیصد اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یہ اضافہ ان خدشات کے باعث ہوا کہ بڑھتی ہوئی دشمنی آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی ترسیل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو کہ عالمی خام تیل کی تجارت کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے ایک انتہائی اہم شاہراہ ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اچانک اس اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے محتاط رجحان کو جنم دیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص سے اپنا سرمایہ نکال کر روایتی محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے اثاثوں کا رخ کر لیا۔
وال اسٹریٹ کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، جہاں ٹیکنالوجی اور گروتھ اسٹاکس (ترقی پذیری والے حصص) میں گراوٹ کے باعث ایس اینڈ پی 500 ، ناسڈیک کمپوزٹ اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سبھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے، تاہم مجموعی مارکیٹ کے برعکس توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں (انرجی پروڈیوسرز) کی کارکردگی بہتر رہی، کیونکہ خام تیل کی بلند قیمتوں نے ان کی آمدنی کے بارے میں توقعات کو بڑھا دیا تھا۔ یورپی حصص (ایکویٹیز) میں بھی مندی دیکھی گئی۔
جرمنی کا ڈیکس اور فرانس کا کیک 40 گر گئے کیونکہ سرمایہ کاروں کو یہ تشویش تھی کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات یورپ کی پہلے سے نازک اقتصادی بحالی پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔
دوسری طرف، برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 خطے کی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں رہا، جسے شیل اور بی پی جیسی بڑی تیل کمپنیوں کے حصص میں ہونے والے اضافے سے مدد ملی، جنہیں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے براہِ راست فائدہ پہنچا تھا۔
پورے ایشیا میں، جاپان کے نکی 225، جنوبی کوریا کے کوسپی اور چین کے بڑے ایکویٹی انڈیکسز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) غیر یقینی صورتحال کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے تھے۔
ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کے حصص سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل رہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے نے تیل درآمد کرنے والی بڑی معیشتوں پر بھی تشویش کے بادل منڈلا دیئے ہیں۔
بھارت میں بھی سرمایہ کار محتاط ہو گئے کیونکہ تیل کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے، ملک کے درآمدی بل میں اضافے اور ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کے متبادل منظرنامے کے پیچیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان کا زیادہ تر انحصار درآمدی پیٹرولیم پر ہے، اس لیے 90 ڈالر فی بیرل کے قریب خام تیل کی برقرار رہنے والی قیمتیں درآمدی بل میں اضافہ کر سکتی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا سکتی ہیں، مہنگائی کو تیز کر سکتی ہیں اور روپے سمیت عوامی مالیات پر دباؤ کو مزید شدید کر سکتی ہیں۔









