بلاول بھٹو 16

آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے، بلاول بھٹو پھر برس پڑے

باغ(رپورٹنگ آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے۔

آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات، ملکی سیاسی صورتحال اور مسلم لیگ (ن) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس مرحلے میں صاف، شفاف اور پرامن انتخابات ہوئے، اور الزام عائد کیا کہ مرحلہ وار انتخابات کرانے کا مقصد دھاندلی کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عوام انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں، ’شیر‘ صرف طاقت اور اقتدار کا بھوکا ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ ابھی آدھا انتخابی مرحلہ باقی ہے اور ان شاء اللہ جلد (ن) لیگ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا، مظفرآباد میں حکومت بنانے کے دعوے بھی حقیقت سے دور ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد کی حکومت بھی خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، وہ خود یہ بات نہیں کر رہے بلکہ ’بڑے بڑے لوگ‘ کہہ رہے ہیں کہ نظام (سسٹم) کلیپس کر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی بحران کی ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) خود ہے، پیپلز پارٹی کی لڑائی صرف انتخابات تک محدود ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی اصل لڑائی اس کے اپنے اندر جاری ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک خاص دھڑا وزیراعظم کی ہر کوشش کو ناکام بنانے میں مصروف ہے، جس کے باعث حکومتی معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور عوام کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا۔ ملک کا نظام ناکام نہیں بلکہ اسے دانستہ طور پر ناکام بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بار بار آئین توڑنے اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے باعث نظام کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ’سسٹم کلیپس‘ کی بات کرتے ہیں، انہیں اس کا حل بھی قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر شخص خود کو سقراط سمجھتے ہوئے نسخہ پیش کرتا ہے مگر اصل بیماری کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے زور دیا کہ جب تک طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک نظام اسی طرح مسائل کا شکار رہے گا، جو عناصر آج یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم اپنی آئینی مدت کے پانچ سال مکمل کریں گے، وہ بھی پوری یقین دہانی کے ساتھ یہ بات نہیں کر رہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کہ اگر انہیں خود اپنے دعوے پر یقین نہیں تو کشمیری عوام کو بھی یہ یقین نہیں ہونا چاہیے کہ اگلے ہفتے کیا صورتِ حال ہوگی۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر اس وقت ہی حقیقی عمل درآمد ممکن ہوگا جب عوام کو فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کے خلاف کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ پارٹی کو ہرگز منظور نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ قومی مفاد کی خاطر وہ اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم اگر کسی نے زبردستی تصادم مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا، انہیں اپوزیشن کرنے کا بھی شوق ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہوتی تو مخالفین کو اندازہ ہو جاتا کہ مؤثر اپوزیشن کیا ہوتی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ پیپلز پارٹی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس لیے ان کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ 10 اگست کو اپنے ووٹ کا تحفظ کرنا ہوگا، اگر ناانصافی اور ظلم کیا گیا تو وہ خود کارکنوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گولی اور خونی الیکشن نامنظور ہیں‘ اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں