اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ جن حلقوں میں دھاندلی کے شواہد موجود ہیں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی اور فیصلے کیے جائیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حلقہ ایل اے 12 کی ویڈیو میں مبینہ دھاندلی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے اور انہوں نے اس حوالے سے ثبوت بھی متعلقہ حکام کو فراہم کیے ہیں۔ ثبوت دیکھ کر چیف الیکشن کمشنر فیصلہ کریں، کیا یہ ناجائز مطالبہ ہے؟
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے اس معاملے پر سوال اٹھائے 48 گھنٹے گزر چکے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان اعتراضات پر توجہ دی جائے۔
راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں میں پولنگ کا عمل متاثر کیا گیا، ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکالا گیا اور ایل اے 12 میں بیلٹ باکس اور ووٹوں کو آگ لگانے کا واقعہ بھی پیش آیا، پیپلز پارٹی نے ان معاملات پر چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کیا اور نتائج روکنے کی بھی درخواست کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی یہ مطالبہ نہیں کر رہی کہ تمام 13 متنازع حلقے دوبارہ کھول دیے جائیں، بلکہ جہاں ٹھوس شواہد موجود ہیں، کم از کم ان پولنگ سٹیشنوں پر فیصلہ کیا جائے، ایل اے 12 کے 25 پولنگ سٹیشنوں سے متعلق ثبوت الیکشن کمیشن کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات کے بعد یہ کہنا درست نہیں کہ معاملہ ختم ہو گیا، کیونکہ قانونی عمل کے مزید مراحل باقی ہیں، ہر ہارنے والا اعتراض کرتا ہے، لیکن جن کے اعتراضات شواہد پر مبنی ہوں، انہیں ضرور سنا جانا چاہیے۔
راجہ پرویز اشرف نے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔









