اسد قیصر 10

گھر کی حرمت پامال کرنا ناقابل قبول ہے، آئین و قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے، اسد قیصر

صوابی (رپورٹنگ آن لائن)پی ٹی آئی رہنما سابق سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر نے موضع تورڈھیر میں ایم پی اے عبدالکریم خان کی رہائش گاہ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ کر عبدالکریم خان اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔اسد قیصر نے کہا کہ گھر کی حرمت پامال کی گئی، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کے گھروں کی حرمت کو بلاخوف پامال کیا جائے تو عدالتوں اور ریاستی اداروں کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو جنگل کے قانون یا بنانا ری پبلک کے طور پر نہیں چلنے دیا جا سکتا، آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت بالادست ہونا چاہیے۔ انہوں نے سیاسی انتقام، جبر یا دبا سے قطع نظر آئین و قانون کی حکمرانی کی بحالی کے لیے پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسد قیصر نے سوال کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے کس آئینی اور قانونی اختیار کے تحت صوبے میں سیکیورٹی سے متعلق اجلاس طلب کیے، کیا صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی تو گورنر کو ایسے اجلاسوں کی صدارت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، اس لیے انہیں وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا جمہوریت کا یہی تصور ہے کہ ان کی جماعت کا گورنر ایک صوبے میں غیر آئینی اجلاسوں کی صدارت کرے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے خلاف غیر قانونی اقدامات کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ وہ موجودہ وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان میں امن ان کی اولین ترجیح ہے، تاہم فیصلہ سازوں کو جواب دینا ہوگا کہ 22 سے زائد آپریشنز کے بعد کیا صوبے میں واقعی امن قائم ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن اور استحکام چاہتے ہیں، تاہم ریاستی حکام کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی، آئینی اور پائیدار طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں